178

عمار چوہدری کالم آدھے تیتر آدھے بٹیر بینک کے ایک کائونٹر پر لمبی قطار لگی تھی۔ اچانک ایک شخص قطار سے باہر آیا اور زور زور سے چلّانے لگا‘دو گھنٹے سے قطار میں لگے ہیں

عمار چوہدری کالم
آدھے تیتر آدھے بٹیر
بینک کے ایک کائونٹر پر لمبی قطار لگی تھی۔ اچانک ایک شخص قطار سے باہر آیا اور زور زور سے چلّانے لگا‘دو گھنٹے سے قطار میں لگے ہیں لیکن کائونٹر پر کوئی افسر نہیں ہے‘ آج بل کی آخری تاریخ ہے اور بینک ٹائم ختم ہونے والا ہے‘ کہتے ہیں بندہ کھانا کھانے گیا ہے‘ اتنی دیر میں تو دو دفعہ کھانا کھایا جاتا ہے۔ اس بندے کی آواز میں دیگر بھی آواز ملانے لگے۔ ایک آواز آئی‘ گیس تو آتی نہیں پھر بھی بل جمع کرانے آئے ہیں لیکن لینے والا کوئی نہیں۔ یہ بینک ہے یا بھوت بنگلہ۔ کوئی بندہ کام کرنے کو تیار نہیں۔ شور سن کر بینک منیجر باہر آ گیا۔ اس نے فون کرکے اس کائونٹر والے افسر کو بلوایا اور یوں بل جمع ہونا شروع ہوئے۔ میں یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ جس بندے نے سب سے پہلے شور مچایا تھا جب اس نے بل ادا کر دیا تو میں نے اسے ایک طرف بلا کر پوچھا: بھائی آپ کتنی جماعتیں پڑھے ہیں۔ کہنے لگا: ایم اے ہوں اور پرائیویٹ جاب کرتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا آپ موبائل فون استعمال کرتے ہیں؟ کہنے لگا: جی ہاں میرے پاس اسی ہزار والا فون ہے‘ کیوں آپ نے چھیننا ہے؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا: نہیں بھائی‘ بس یہ بتائو اس سے صرف فون کال اور ایس ایم ایس ہی کرتے ہو یا اتنے مہنگے فون کا کوئی اور استعمال بھی کیا ہے؟ کہنے لگا: سوشل میڈیا سے متعلق کئی موبائل ایپس اس میں ہیں جیسے فیس بک یوٹیوب وغیرہ۔ میں نے پوچھا: فیس بک استعمال کرنا کس نے سکھائی؟ کہنے لگا: خود ہی سیکھا۔ میں نے کہا: جب ستر ہزار والا مہنگا فون رکھا ہوا ہے‘ تعلیم بھی ایم اے ہے‘ نجی کمپنی میں جاب بھی کرتے ہو‘ نوجوان بھی ہو اور سوشل میڈیا پر مختلف ایپس کا بھی استعمال کرتے رہتے ہو تو پھر بجلی کا بل جمع کرانے کے لئے کیوں قطاروں میں لگتے ہو‘ اس کیلئے موبائل فون کا استعمال کیوں نہیں کرتے؟ جتنی دیر میں تم نے بل جمع کرانے کیلئے اپنے دفتر یا گھر کی دہلیز سے باہر نکلنا تھا‘ اتنی دیر میں موبائل پر یہ کام مکمل کر سکتے تھے۔ وہ حیرانی سے بولا: ہاں سنا تو تھا کہ ویب سائٹ اور موبائل سے بھی بل جمع ہو جاتے ہیں‘ لیکن اس کا طریقہ نہیں آتا۔ میں نے کہا: سیکھنے کی کوشش کی ہوتی تو طریقہ آ جاتا جیسے سوشل میڈیا پر گھنٹوں لگے رہتے ہو ایک آدھ گھنٹہ لگا کر یہ سیکھ لیتے تو بل جمع کرانے کیلئے قطاروں میں لگنے اور وقت ضائع کرنے سے بچ جاتے۔
یہ محض اس ایک یا چند لوگوں کا معاملہ نہیں‘ ہمارے ملک کی اکثریت جدید ٹیکنالوجی اپنانے سے قاصر ہے۔ ستم کی بات یہ ہے کہ لوگوں کے پاس موبائل اور کمپیوٹر ہیں اور وہ ان پر گھنٹوں اِدھر اُدھر کی ویڈیوز دیکھنے اور گیمیں کھیلنے میں بھی مصروف رہتے ہیں لیکن اس کا مثبت استعمال کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ چلیں اگر آپ کو طریقہ نہیں آتا تو آپ اپنے دوستوں‘ اپنے بچوں سے مدد لے سکتے ہیں۔ اب اکیسویں صدی کا بھی ایک ربع گزرنے کو ہے لیکن پاکستان جیسے ملک میں لوگوں کا محض بجلی گیس کے بلوں کیلئے قطاروں میں لگنا سمجھ سے باہر ہے۔ بجلی‘ گیس وغیرہ کے بلوں کی ادائیگی تو کئی برسوں سے موبائل اور ویب سائٹس سے ہو رہی ہے۔ اب تو درجنوں سرکاری و نجی بلوں اور سروسز کی ادائیگی بھی موبائل ایپس سے شروع ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر ہاشم جواں بخت نے ایک موبائل ایپ ای پے پنجاب کا افتتاح کیا‘ جس کے ذریعے پانچ مختلف سرکاری ڈیپارٹمنٹس کے تیرہ ٹیکس اور فیسیں موبائل فون سے ادا کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو ہی لے لیں۔ اگر آپ نے گاڑی خریدی ہے اور آپ اس کی رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں تو اب آپ کو ایکسائز کے دفتر جا کر لمبی قطاروں میں لگنے یا کسی ایجنٹ کے ہتھے چڑھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی گاڑی کی رجسٹریشن گھر بیٹھے موبائل فون سے بھی کروا سکتے ہیں۔ ہر سال گاڑی کے ٹوکن ادا کرنا بھی ایک مسئلہ ہوتا تھا‘ لیکن پنجاب آئی ٹی بورڈ کی وضع کردہ اس ایپ سے یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا ہے۔ آپ نے گاڑی کا سالانہ ٹوکن ٹیکس دینا ہے تو آپ ای پے موبائل ایپ ڈائون لوڈ کریں۔ مفت اکائونٹ بنائیں۔ اپنی گاڑی کا نمبر لکھیں۔ آپ کا واجب الادا ٹیکس سکرین پر نمایاں ہو جائے گا۔ وہاں موجود کوڈ کاپی کرکے آپ اپنے بینک کی موبائل ایپ میں جائیں اور سرکاری فیسوں کی ادائیگی میں یہ کوڈ پیسٹ کر دیں۔ موبائل ایپ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے آپ کی گاڑی کے ٹوکن ٹیکس کی واجب الادا فیس یہاں نمایاں کر دے گا اور آپ ایک کلک سے اسے ادا کر سکیں گے۔ جیسے ہی آپ ٹوکن فیس ادا کریں گے آپ کو موبائل پر تصدیقی پیغام آ جائے گا اور ایکسائز کی ویب سائٹ پر آپ کا ڈیٹا بھی اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔ یہی نہیں‘ اب گاڑی یا موٹر سائیکل وغیرہ کی ٹرانسفر کروانے کیلئے بھی ایکسائز کے دفاتر جانے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ گاڑی خریدنے اور بیچنے والے کی معلومات درج کرکے اسی ایپ سے ٹرانسفر بھی ممکن ہو چکی ہے۔ اسی طرح پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی بھی اسی ایپ سے ہورہی ہے۔ اپنے گھر‘ دکان یا دفتر کا سالانہ پراپرٹی ٹیکس دینا ہے تو آپ اپنے چالان پر موجود نمبر کو اس ایپ میں ڈال کر یہ ٹیکس بھی ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح محکمہ مال کی فرد فیس‘ ای سٹیمپنگ و دیگر فیسیں بھی یہیں ادا ہو سکتی ہیں۔ اس ایپ کا مقصد لوگوں کیلئے ٹیکسوں کی ادائیگی کے طریقِ کار کو سہل بنانا ہے۔ ہر کوئی موبائل فون استعمال کر رہا ہے۔ ہر موبائل فون میں درجنوں قسم کی ایپس موجود ہیں۔ تین سال کے بچے سے لے کر معمر شخص تک سبھی اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن بہت کم لوگ اس سے صحیح فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اب تو دکاندار سروسز پر سیلز ٹیکس کی ادائیگی بھی اسی ایپ سے کر سکتے ہیں۔ ہم میں سے بہت سے لوگ کاروبار کرنا چاہتے ہیں لیکن کاروبار کے اندراج کے پیچیدہ طریق کار سے ڈر کر شروع نہیں کر پاتے۔ لوگوں کو یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ کاروبار کا اندراج ہوتا کیسے ہے۔ اب تو گھر بیٹھے ویب سائٹ پر جاکر پنجاب بزنس رجسٹریشن پورٹل پرکاروبار کا نہ صرف اندراج کیا جاسکتا ہے بلکہ ای پے ایپ کے ذریعے بزنس رجسٹریشن فیس بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ ہمارے ملک میں لوگوں کا ٹیکس نہ دینے کا ایک بہانہ مشکل اور پیچیدہ طریق کار تھا لیکن اب تو یہ بہانہ بھی نہیں رہا۔ اب کیا مشکل ہے؟ اب تو رُوٹ پرمٹ بھی اسی ایپ سے مل جاتے ہیں‘ حتیٰ کہ مستقبل میں اسی ای پے ایپ کے ذریعے سکولوں کی فیسیں‘ ڈرائیونگ لائسنس اور ٹریفک چالان کی فیس بھی جمع ہو جایا کرے گی۔ ای پے پنجاب نجی شعبے کیلئے بھی لانچ کیا جا رہا ہے‘ جس کے بعد نجی شعبے میں موجود سینکڑوں سہولیات اور خدمات آپ کے موبائل فون کے ایک ٹچ پر حاصل ہو جایا کریں گی۔ ایک خبر کے مطابق ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ بھی اسی نظام سے منسلک ہونے والے ہیں‘ جس سے اس سہولت کا دائرہ کار اورادائیگی اور بھی وسیع ہو جائے گی۔ دلچسپ امریہ ہے کہ اس ای پے ایپ کے بعد ٹیکسوں کی ادائیگی کا حجم بہت زیادہ بڑھا ہے اور گزشتہ سال پینتالیس کروڑ سے زائد کاریکارڈ ٹیکس جمع ہوا ہے۔
مسئلہ وہی ہے کہ ہم لوگ ٹیکنالوجی کااستعمال اپنی اپنی پسند کے مطابق کر رہے ہیں۔ اب یہ بہانہ نہیں رہاکہ مجھے بینک اکائونٹ کی ایپ استعمال نہیں کرنا آتی۔ اس میں بھی پہلی بار اکائونٹ بنانے اور رجسٹر ہونے میں اتنا ہی وقت لگتا ہے جتنا ای میل یا فیس بک اکائونٹ بنانے میں۔ اگر ہم وہ کام کرلیتے ہیں تو یہ کون سا مشکل ہے۔ جب ہمارے موبائل میں ہی یوٹیلٹی بلز‘ سرکاری ٹیکسوں اور فیسوں کی ادائیگی وغیرہ کی سہولت موجود ہے تو پھر قطاروں میں لگنے اور دوسروں کو کوسنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب ہم شاپنگ ویب سائٹس سے چیزیں گھر منواسکتے ہیں‘ آدھی رات کو ملٹی نیشنل برگر کمپنی سے پیزااور برگر آرڈر کرسکتے ہیں تو پھرگاڑی کے ٹوکن ٹیکس اور بجلی کے بل کیوں موبائل سے ادا نہیں کرسکتے؟ کیاہم جان بوجھ کر آدھے تیتر آدھے بٹیر بنے رہنا چاہتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں