135

نذیر ناجی کالم لبنان کا بدلتا ہوا سیاسی منظر نامہ لبنان میں عوامی مزاحمتی تحریک کو تین ماہ ہو چکے ہیں۔ ملک گیر عوامی مظاہروں کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم سعد حریری مستعفی ہوئے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہزاروں مظاہرین کی

نذیر ناجی کالم
لبنان کا بدلتا ہوا سیاسی منظر نامہ
لبنان میں عوامی مزاحمتی تحریک کو تین ماہ ہو چکے ہیں۔ ملک گیر عوامی مظاہروں کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم سعد حریری مستعفی ہوئے۔لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہزاروں مظاہرین کی جانب سے سعد حریری کے اس اقدام پر خوشیاں منائی گئیں۔دنیا کی نظریں حال ہی میں نامزد کیے گئے وزیراعظم حسن دیاب پر مرکوز ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ نئی حکومت تشکیل دے پائیں گے یا نہیں؟سیاسی مشاورت کا عمل جاری ہے۔لبنانی سیاسی جماعتوں کے درمیان سمجھوتے کے لیے ملاقاتیں جاری ہیں لیکن سڑکوں پر نکلنے والے لوگوں اور بین الاقوامی برادری کے لیے یہ سب کچھ بے مقصد دکھائی دیتا ہے ۔ ریاست کو معاشی بحران کاسامنا بھی ہے یہاں تک کہ اس کے بینک دیوالیہ ہونے والے ہیں۔ معاشی بحران جلد حل ہوتا نظر نہیں آرہا۔
کوئی مثبت حل نظر نہیں آتا۔یہ حقیقت ہے کہ اگرحسن دیاب یا موجودہ حکام کسی اور شخصیت کو ان کی جگہ وزیراعظم کے طور پر نامزد کرتے ہیں ‘ اس وزیراعظم کو سڑکوں پر عوامی تحریک یا عالمی برادری کا اعتماد حاصل نہیں ہوسکے گا۔اعتماد کے فقدان سے باہر نکلے بغیر لبنان عالمی امداد حاصل نہیں کر سکے گا‘ نہ ہی اپنی معیشت کو مستحکم بنا سکتا ہے۔نئے سال 2020ء کی پہلی سہ ماہی میںدرست تصویر نظر آئے گی ‘ آیالبنان مالیاتی بحران، انسانی المیے اور سکیورٹی خطرات کے پیش نظر بھنور میں پھنسی اپنی کشتی کو نکال پاتا ہے یا نہیں۔المیہ یہ ہے کہ اربابِ اقتدار کو اس بات کا ادراک نہیں کہ ان کے اقتدار سے چمٹے رہنے کے کیا مضمرات ہوسکتے ہیں؟برسر اقتدار کوئی فرد واحد نہیں یا کوئی ایک پارٹی نہیں ہے۔ اس وقت لبنان میں حقیقی حاکم کون ہیں؟کچھ واضح نہیں ہو پا رہا ‘یہ الگ بات ہے کہ مختلف فرقوں اور چھوٹی سیاسی جماعتوں نے حزب اللہ سے مل کر نیا اتحاد قائم کر رکھا ہے۔کہا جائے کہ حزب اللہ کا پلڑابھاری ہے تو غلط نہ ہوگا۔
آج حزب اللہ کوسمجھوتا کرنا ہوگا اور کڑوے فیصلے کرنا ہوں گے۔اگر وہ اپنے اختیارات سے دستبردار ہوجاتے ہیں اور ایک اہل‘ قابل اعتبار حکومت کو اقتدار سونپ دیتے ہیں تو پھر انہیں ریاستی اداروں تک رسائی سے بھی محروم ہونا پڑسکتا ہے۔دوسری جانب اگر وہ اقتدار سے چمٹے رہتے ہیں اور جیسا کہ نامزد وزیراعظم دیاب کے معاملے میں نظر آرہا ہے ‘ انہیں ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔اس صورت میں انہیں حاصل عوامی حمایت کی قیمت بھی چکانا پڑسکتی ہے اور ریاستی اداروں میں حاصل مراعات اورسہولتوں سے دست بردار ہونا پڑسکتا ہے۔اقتصادی مشکلات اور بین الاقوامی دباؤ کے تناظر میں خوراک ‘صحت کے مسائل‘ لبنانی عوام کے لیے اسرائیل کے خلاف لڑائی یا شام‘ عراق اور یمن میں قبضے سے زیادہ اہمیت حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ حزب اللہ کو ان تبدیل ہوتی عوامی ترجیحات کے چیلنج کا سامنا کرنا ہوگا۔
دیکھا جائے توحزب اللہ مختصرالمیعاد ‘ ایک نئی حکومت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتی ہے۔خواہ یہ نامزد وزیراعظم حسن دیاب ہوں یا سعد الحریری۔دیاب کی ناکامی کی صورت میں سعد الحریری ایک مرتبہ پھر وزیراعظم بن سکتے ہیں۔اس عمل میں وہ عالمی برادری کا ردعمل دیکھے گی۔حزب اللہ کو یہ امید ہے کہ عالمی برادری کو لبنان میں عدم استحکام سے مزید تشویش لاحق ہوگی۔ لبنان میں خواہ کوئی بھی حکومت تشکیل پائے ‘ عالمی برادری اس کی مالی مدد کرے گی ۔
حزب اللہ کو توقع ہے کہ 2020ء میں امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیمو کریٹک پارٹی جیت جائے گی ۔اس طرح ایک مرتبہ پھر حزب اللہ کو رقوم کی ترسیل شروع ہوجائے گی اور اس جماعت کا اپنا مالیاتی بحران بھی ختم ہوجائے گا۔بحران سے نمٹنے کے لیے حمایت اور وسائل کی آمد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے امکان روشن ہو جائیں گے اور بحران سے نمٹنا اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔تاہم ممکنہ منظرناموں کا انحصار مذکورہ دونوں خواہشات کی تکمیل پر ہے۔حزب اللہ کو ابھی اس حقیقت سے بھی نمٹنا ہے کہ لبنانی عوام اب زیادہ دیر تک مزاحمتی بیانیے اور غوغا آرائی کے خریدار نہیں رہے ہیں۔تاہم اس وقت تمام نظریں حکومت کی تشکیل کے موجودہ عمل پر مرکوز ہیں۔
عراق اور لبنان دونوں ہی کو تعمیر ِ نو کا مرحلہ در پیش ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی مسلط کردہ جنگوں نے یہاں انفراسٹرکچر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ ان ممالک کی آمدنی کے ذرائع پر بھی نظر کریں تو یہاں بھی امریکی بلاک ہی ذمے دار ہے۔ عراق کا تیل سمگل کرکے کس نے فروخت کیا اور کروایا؟ بلکہ عراق کے تیل پر کس کا قبضہ رہا؟کون نہیں جانتا لبنانی وسائل کے بعض حصوں پر اسرائیل کا آج بھی قبضہ ہے۔ تو عراق اور لبنان ہی نہیں بلکہ پوری عرب اور اسلامی دنیا میں یہ مسائل حل ہونے والے نہیں‘ کیونکہ امریکی بلاک کی پالیسی برائے مشرق وسطیٰ کا مرکزی نقطہ اسرائیل کا تحفظ ہے اور ایک مضبوط و مستحکم لبنان اسرائیل کے لئے قابل قبول نہیں۔ ایرانی انقلاب سے بہت پہلے سے لبنان عدم استحکام سے دوچار ہے۔ جغرافیائی محل وقوع، ڈیموگرافی، قدرتی وسائل کی وجہ سے امریکی بلاک کے لیے لبنان اہم ہے۔ عراق اور لبنان دونوں ممالک میں قومی مفاہمت اور اتحاد ہی واحد راہ نجات ہے۔ اصل دشمن اور ان کے آلہ کاروں کو ناکام بناتے ہوئے داخلی مسائل کو حل کرنا ہوگا۔ کرپٹ عناصر کا بلا امتیاز احتساب اور ان کے خلاف احتجاج بھی کیا جائے ۔مگر ملکی ڈوبتی معیشت کے لیے اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔لبنان کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں