175

بند گلی اور مرثیہ گوئی کالم لکھنے کو نہ دل مان رہا ہے نہ ذہن ساتھ دے رہا ہے۔ بیدیلی کی اس کفیت میں لکھی اس تحریر کو بس مرثیہ گوئی سمجھ لیں کیونکہ بھاری دلوں کے ساتھ شہنائیاں نہیں بجتی بلکہ اکثر

Tariq Amin
بند گلی اور مرثیہ گوئی
Jan 01, 2020
شیئر کریں:
Google+ Whatsapp Share
بند گلی اور مرثیہ گوئی
کالم لکھنے کو نہ دل مان رہا ہے نہ ذہن ساتھ دے رہا ہے۔ بیدیلی کی اس کفیت میں لکھی اس تحریر کو بس مرثیہ گوئی سمجھ لیں کیونکہ بھاری دلوں کے ساتھ شہنائیاں نہیں بجتی بلکہ اکثر مرثیہ گوئی ہی ہوتی ہے۔ یہ کفیت جس سے اس وقت میں گزر رہا ہوں اکیلا میں ہی نہیں میری طرح اور بھی بہت سے پاکستانی ہیں جنکو اس وقت یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ جسطرح ملک کے دو انتہائی اہم مقتدر اور معتبر ادارے جو کسی بھی مملکت کی سالمیت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اس وقت جس مقام پر کھڑے نظر آ رہے ہیں شائد کچھ دوستوں کے نزدیک یہ ایک آئیڈیل سچویشن بننے جا رہی ہے جس کے بطن سے یہ دوست جمہوریت کے ایک ایسے بچے کی پیدائش کی توقع لگا رہے ہیں جو اس دفعہ ماضی کی طرح پولیو زدہ نہیں ہو گا بلکہ پیدا ہوتے ہی بھاگنا ہی نہیں چھلانگیں لگانا شروع کر دیگا لیکن اس سباق میں کچھ اور دوستوں کی فکری سوچ اس سے بالکل مختلف پائی جاتی ہے جہاں انکے نزدیک ملکوں کی تاریخ میں اکثر اوقات یہ مقام ایسے موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں نہ صرف بچا کھچا سسٹم تباہ ہو جاتا ہے بلکہ اس موڑ کے بعد اگے کے تمام راستے تنگ و تاریک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی بند گلی میں کھلتے ہیں جہاں صرف اور صرف تباہی قوموں کا مقدر بنتی ہے۔ ذرا غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ کائنات کے اس سسٹم اور اسکے تسلسل کا بنیادی نقطہ ہی یہی ہے کہ دنیا کی ہر چیز ایک تضویض کردہ اختیار کے تحت ایک مخصوص مدار میں گھوم رہی ہے۔ کتاب الہی میں جب قیامت کی بات ہوتی ہے تو اسکا سبب بھی یہی بیان کیا جاتا ہے کہ زمین سورج چاند اور دوسرے سیارے جب اپنے مدار میں چلنا چھوڑ دینگے تو انکے اپس میں ٹکرانے سے یہ کائنات قیامت کا شکار ہو کر اپنا وجود کْھو دے گی بس یہی ایک سمجھنے کی بات ہے کہ کائنات کی طرح ملکوں کے سسٹم میں بھی جب طاقتور ترین ادارے اپنے ملک کے سسٹم کے تضویض کردہ اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے مدار سے باہر نکل کر گھومنے یا دوسروں کے معاملات میں بیجا مداخلت کرتے ہیں تو وہ سسٹم وہ ملک بھی قیامت جیسی تباہی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں فکری نظر سے دیکھیں تو ہمارے ملک میں بعض ناقدین کے بقول بگاڑ کی جو بنیادی وجہ بیان کی جا رہی ہے انکے بقول دراصل وہ یہی آئین کے تحت تضویض کردہ سے اختیارات سے تجاوز ہے لیکن راقم سمجھتا ہے کہ اگر یہ بات صحیح ہے بھی تو اس وقت جو بات بگاڑ کا اصل سبب بن رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس سسٹم کو مظبوط کرنے کی بات نہیں کرتے جو ان طاقتور اداروں کو لگام ڈال سکے یا انکو انکے مدار کے اندر چلنے پر پابند کر سکے۔ پوری دنیا میں یہ اصول ہے کہ کسی بھی ملک کی پارلیمنٹ اس ملک کا سپریم ادارہ ہوتا ہے جو اس ملک کیلیئے آئین اور سسٹم بناتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں آئینی ترامیم بھی کرتا ہے لیکن ہمارے ہاں بدقسمتی سے پارلیمنٹ اپنی بقاء کیلئے طاقتور ترین اداروں کی خوشنودگی حاصل کرنے میں لگی دکھائی دیتی ہے۔ یہ تو بات ہے پارلیمنٹ کی لیکن ہمارے سسٹم میں اس سے بھی بڑی ایک اور بدقسمتی پائی جاتی ہے کہ معاشرے کی وہ فورسز وہ قوتیں جو عوامی اظہار کا ذریعہ بنتی ہیں اور اداروں کو اپنا طرز عمل درست کرنے پر مجبور کرتی ہیں بجائے اسکے کہ وہ اس سسٹم کو مظبوط کرنے کی بات کریں کوئی مثبت تجاویز دیں جس سے اداروں کی حدود سے تجاوز کی پالیسی کو کوئی لگام دی جا سکے ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مضبوط ترین اداروں کے وکیل بن کر ایسی بیان بازی اور گولہ باری میں لگ گئے ہیں جہاں پر کسی خط تصحیح کی بجائے مزید دوریاں فاصلے اور رنجشیں جنم لینے لگی ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ اگر اپ اپنے سے سبق نہیں سیکھ سکتے تو اردگرد کو دیکھ کر ہی کوئی سبق سیکھ لیں۔ یہ کوئی زیادہ دور کی بات نہیں کوئی ساڑھے تین سال پہلے کی بات ہے برطانیہ میں پبلک وائس میں یہ مطالبہ بڑا زور پکڑتا نظر آ رہا تھا کہ برطانیہ کے لوگوں کی اکثریت یورپی یونین سے نکلنا چاہتی ہے۔ وہاں کی جمہوری حکومت چاہتی تو اس سے صرف نظر اختیار کر بھی سکتی تھی لیکن حکومت عوام کے پاس گئی اور اگلی صبح عوامی فیصلہ سامنے آ گیا جسے یورپی یونین سے علیحدگی Brexit کا نام دیا گیا۔ دنیا نے دیکھا فیصلہ آنے پر لمحوں کی تاخیر کے بغیر ملک کا وزیراعظم اپنے دفتر سے باہر آیا اور استعفی دیکر گھر چلا گیا۔ پارٹی نے اپنا نیا لیڈر چنا اور برگزٹ پر کام شروع ہو گیا۔ دو سال کے ٹرانزیشن پریڈ کے بعد جب قانون سازی کا مرحلہ آیا تو پارلیمنٹ میں چوہے بلی کا کھیل شروع ہو گیا حتی کہ بڑی پارٹیوں کے اپنے اندر کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ملک کا وزیراعظم اپنی ملکہ کے پاس پہنچ گیا اور اس سے ایک ماہ کیلیئے پارلیمنٹ کی معطلی کی منظوری لے لی لیکن وقت نے دیکھا کہ اگلی ہی صبح وہاں کی عدالت عالیہ نے ایک دن میں پارلیمنٹ کو بحال کر دیا۔ بے بسی کی اس کفیت میں سیاستدانوں نے دوبارہ سسٹم سے رجوع کیا دنیا نے دیکھا کہ ایک ماہ کی قلیل مدت میں دوبارہ انتخاب ہوئے۔ چوبیس صرف چوبیس گھنٹوں میں پارلیمنٹ چْنی گئی نہ الزامات نہ تحفظات۔ اسی دن نئی حکومت بنی اور اگلے ایک ہفتے میں برگزٹ کا بل پاس کر کے یہ ثابت کر دیا گیا کہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے کس طرح عملی طور پر عوامی فیصلوں کو توقیر بخشی جاتی ہے۔بس یہی ایک ہمارے لئے سبق ہے اگر سیکھنا چاہئیں۔

شیئر کریں:
Google+ Whatsapp Share
طارق امین۔۔۔۔ تیسری آنکھ
طارق امین۔۔۔۔ تیسری آنکھ`

مشہور ٖخبریں
کراچی : ریکارڈ توڑ گرمی، پارہ 44 تک پہنچنے کا امکان,شدید گرمی …
May 21, 2018 | 15:55
تین عورتیں! تین کہانیاں!
Aug 12, 2011
وفات پا جانے والے ملازمین کے خاندان کیلئے امدادی پیکیج پر …
Jun 12, 2018
زونگ نے لمز یونیورسٹی میں فور جی وائرلیس ریسرچ لیب کا افتتاح …
Dec 14, 2017
متعلقہ خبریں
جاپان میں پیراولمپکس کے ٹِکٹوں کی آن لائن فروخت کیلئے …
Sep 11, 2019 | 21:19
لاہور سے حافظ آباد تک موٹروے ایم ٹو دھند کے باعث بند کردی گئی
Dec 15, 2019 | 10:04
گوگل کا سیاسی اشتہارات بند کرنے کا اعلان
Nov 21, 2019 | 14:06
نئی دہلی میں فضائی آلودگی، صورتحال سنگین ہونے پر اسکولوں کو …
Nov 01, 2019 | 22:09

E-Paper Nawaiwaqt
اہم خبریں
وزیرِ اعظم عمران خان کا ترلائی پناہ گاہ کا اچانک دورہ, قیام …
Jan 01, 2020 | 23:40
وفاقی کابینہ نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دے دی ، بل کا …
Jan 01, 2020 | 23:33
بجلی ایک روپے 56 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
Jan 01, 2020 | 23:19
بھارت میں شہریت ترمیمی ایکٹ،این آرسی اور این پی آر کے خلاف …
Jan 01, 2020 | 23:15
افغانستان کو رواں مالی سال کے دوران 432.46 ملین ڈالر مالیت کی …
Jan 01, 2020 | 23:02
کالم
اداریہ
سرے راہے
ڈھٹائی سے مہنگائی پر قابو پانے کے دعوے
Jan 01, 2020
ایک سو پچاس ناٹ آؤٹ!!!!
Jan 01, 2020
اپریل 2020ء میں او آئی سی کا ’’ہنگامی اجلاس‘‘؟؟
Dec 31, 2019
بارہ کہو کی سرد ہوائوںمیں نیکیوں کا بینک بیلنس
Dec 31, 2019
میر ظفر اللہ خان جمالی کا پیغام عمران خان کے …
Dec 31, 2019
ادارتی مضامین
مضامین
ایڈیٹر کی ڈاک
سال بدلا‘ ہم بھی بدلیں گے!
Jan 01, 2020
بھارت ’’پاکستان زندہ باد‘‘ سے گونج اٹھا
Jan 01, 2020
نیب ترمیمی آرڈی ننس
Jan 01, 2020
جلتا مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں سیاسی …
Jan 01, 2020
بھارت … سیاسی اور معاشی خانہ جنگی !
Dec 31, 2019
نور بصیرت
قائد اعظم نے فرمایا
فرمودہ اقبال
1
عفووحلم کے پیکر(۲)

2
عفووحلم کے پیکر(۱)

3
انوکھا سخی۔۔۔

4
ایثارووفاء

5
دعوت وتربیت

منتخب
1
اسلام آباد سے چین کیلئے نئے روٹ کا آغاز، 18 گھنٹوں کا سفر صرف 4 گھنٹے میں ہو گا

2
کینیڈا سے بڑی تعداد میں بھارتی طلبا ڈی پورٹ

3
’’2020 ء تبدیلی کا سال ‘‘ والے بے بنیاد دعوے

4
’’لوگوں کو انکے گھر میں ڈرا دینا چاہیے‘‘

5
آئی ایم ایف کا تجویز کردہ نیا قانون

حالیہ تبصرےزیادہ پڑھی گئی
1
طاہر القادری نے عوامی انقلاب کونسل بنانے، جولائی میں وطن واپسی کا اعلان کردیا

2
10 جنوری تک انتخابی اصلاحات ورنہ اسلام آباد کی طرف ملین مارچ ہو گا: طاہر القادری

3
تیز ہوا، بارش سے بھگدڑ، عمران خطاب مکمل کئے بغیر چلے گئے ‘لوگ کرسیاں اٹھا کر لے …

4
دوبارہ عدالت نہیں جا¶ں گا، خورشید شاہ نے متعلقہ ریکارڈ دینے کا وعدہ کیا تھا: طاہر …

5
گوجرانوالہ: تحریک انصاف کے امیدوار کی اہلیہ کے محافظوں نے نوجوان کو قتل کر دیا

E-Paper – The Nation
نوائے وقت گروپ رابطہ اشتہارات
Powered By
Copyright © 2020 | Nawaiwaqt Group

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں