49

*علمِ نافع اور دینی بصیرت کا فقدان* پیر 06 فروری 2023 انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

*علمِ نافع اور دینی بصیرت کا فقدان*

پیر 06 فروری 2023
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْکَرِیْمِ وَخَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَعَلٰی اٰلِهٖ وَاَزْوَجِهٖ وَاصْحَابِهٖ اَجْمَعِین۔

امابعد: ہر اسلام پسند اور اسلامی تعلیمات سے واقف شخص وطن عزیز میں اپنے قرب و جوار معاشرے کی اسلامی حیثیت سے واقف ہے، دراصل ان تمام تر معاشرتی خرابیوں کے اسباب میں سے ایک سبب دین اسلام کے حوالے سے علمِ نافع اور دینی بصیرت کا فقدان ہے، جو مجموعی طور پر عوام اور حکمران طبقہ دونوں میں دیکھا جارہا ہے اور یہ وہ خامی ہے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے پہلے ہی پیشین گوئی فرمادی تھی اور مختلف احادیث میں آپﷺ کی یہ پیشین گوئیاں کہ قربِ قیامت لوگوں میں بصیرت اور فہم کی بڑی کمی ہوگی ،موجود ہیں۔

دور حاضر نبی اکرم ﷺ کی ان احادیث کی عکاسی کرتا ہے کہ عوام اور حکمران طبقہ دونوں بصیرت سے محروم نظر آتے ہیں۔

قرب قیامت عوام الناس کی بصیرت اور شعور کی کیفیت کی وضاحت میں سب سے پہلے ایک حدیث پیش ہے۔ سیدنا ابوھریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’ بادروا بالأ عمال فتنا كقطع الليل المظلم يصبح الرجل مؤ منا ويمسي كافرا ا و يمسي مو منا ويصبح كافرا يبيع دينه بعرض من الدنيا‘‘(صحیح مسلم:118)

یعنی ’’ قرب ِقیامت ایسا وقت آئے گا کہ ایک شخص صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مومن ہوگا اور صبح کافر ہوجائے گا۔ آدمی اپنے دین کو پیسوں کے بدلے بیچ دےگا۔‘‘

اب سوال اٹھتا ہے کہ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دور جیسے آگے جا رہا ہے، ترقی ہورہی ہے، دنیا چاند پر پہنچ گئی۔بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ بصیرت اس حد تک ختم ہو جائےگی ایک ہی دن میں مختلف ادیان کو قبول کیا جارہا ہے ۔کیا وجہ ہے؟
دوسری حدیث میں اس کا جواب موجود ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’ إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا فا فتوا بغير علم فضلوا وا ضلوا‘‘ (صحیح بخاری:100صحیح مسلم: 2673)

یعنی: ’’ علم اٹھ جائے گا اور اللہ تعالی علم لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر نہیں نکالے گا بلکہ علماء کے چلے جانے کے ساتھ علم بھی چلا جائے گا۔ حتی کہ کوئی عالم باقی نہیں رہے گا اور لوگ جاہلوں کو اپنے رؤساء اور پیشوا بنالیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے ، یہ جہلاء خود بھی گمراہ ہونگے اور لوگوں کو بھی گمراہ کردیں گے۔‘‘

ان دونوں احایث سے یہ بالکل واضح ہوجاتاہے کہ اہل علم سے تعلق اور مصاحبت بصیرت کاسبب ہے اور قربِ قیامت جیسے جیسے علماء کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے ذریعےسے علم اٹھتا جائے گا، لوگ بھی بصیرت سے دور ہوتے چلے جائیں گے،حتی کہ لوگ جہلاء کو پیشوا بنالیں گے اور ان سے فتاوی پوچھیں گے، نتیجتاً وہ گمراہی کی دلدل میں گرتے چلے جائیں گے۔ آج بالکل یہی کیفیت بنتی جارہی ہے کہ آج میڈیا پر جن لوگوں سے دینیات کے مسائل پوچھے جارہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں مساجد کے منبروں نے قبول نہیں کیا، جو شاید دنیاوی امور میں علماء سے فائق ہوں لیکن دینی رہنما ہونے کاقطعاً حق نہیں رکھتے۔ آج دینی بصیرت کے معدوم ہونے کے اسباب میں سے بڑا سبب یہی ہے کہ علماء ربانیین بڑی تیزی سے لقمۂ اجل بن رہے ہیں اور پھر خواہش پرست لوگ بڑی تیزی سے بمصداقِ ’’نیم حکیم خطرۂ جان‘‘ لوگوں کے ایمان کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان علماء سؤ کے شرور سے ہمیں محفوظ رکھے اور عوام الناس کو قرآن و سنت کا علم حاصل کرنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا کرے.
آمین یا رب العالمین

*تصویر کا دوسرا رخ*

ہمارے ہاں جو کمزور اور ناکارہ ترین بچہ ہوتا ہے ہم اسے دینی مدارس بھیج کر حافظ قرآن تو بنا دیتے ہیں اور اس بچے کے والدین بھی ثواب کے ڈھیر تو لگا لیتے مگر بچے کا مستقبل داؤ پر لگا دیتے ہیں اور وہ بچہ اپنی باقی ماندہ زندگی صدقہ خیرات پر گزر بسر کرنے پر مجبور ہوتا ہے مگر نہ تو والدین کو کبھی خیال آیا کہ اس بچے کی طرف خاص توجہ دی جائے اور اس حافظ صاحب کو بھی اپنے دوسرے بچوں کی طرح اعلی تعلیم دلوا کر معاشرے کا فعال رکن بنایا جاۓ تاکہ یہ بچہ بھی بڑا ہو کر ڈاکٹر انجینیئر یا دینی محقق بنے۔

معذرت کے ساتھ اس میں قصور وار ہمارے مدارس دینیہ بھی ہیں۔
کیوں یہ مدارس دینیہ عصری تعلیم کو اپنے مدارس میں متعارف نہیں اور عصری تعلیم کو ترویج نہیں دیتے تاکہ ان کے فارغ التحصیل حفاظ کرام بھی دنیا کی اعلی ترین یونیورسٹیوں سے اعلی ڈگریاں حاصل کرتے اور سائنسی میدان میں ملک و قوم کی خدمت کرتے۔

یہاں میں برادر ملک سعودی عرب کی مثال دینا چاہوں گا جہاں ہر بچہ عالم دین بھی ہے اور ڈاکٹر، انجینیئر اور سائنسدان بھی ہے۔

سعودی عرب کے اکثر علما پی ایچ ڈی ہیں اور ہمارے مدارس بس حافظ، امام مسجد، استاد اور خطیب سے آگے نہیں جاتے کیوں؟
ایک لمحہ فکریہ۔۔۔۔

ایک وہ زمانہ تھا جب مسلمان بڑی بڑی ایجادات کے موجد ہوا کرتے مگر آج مسلمان کچھ نہیں بنا رہے بس بچے بنا رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اسلام غالب کیوں نہیں آ رہا۔
جی چرانا کام سے اور کامیابی کا یقین۔

آفرین ہے ان اداروں پر جو تلہ گنگ جیسے دور افتادہ پہاڑی علاقہ میں ایک ماڈل دینی درسگاہ چلا رہے ہیں اور ہم امید واثق رکھتے ہیں حق کی کرنیں یہیں سے پھوٹیں گی ترقی کی راہیں یہیں سے نکلیں گی

*طالبِ علم*
خدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تُو

کتاب خواں ہے مگر صاحبِ کتاب نہیں!

وا صلی اللہ علی النبینا محمد
Please visit us at www.nazirmalik.com
Cell:00923008604333

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں