24

کبیروالا کبیروالا پاکستان کا 118 بڑا شہر اور ضلع خانیوال کی سب سے بڑی تحصیل ہے۔یہ شہر خانیوال سے شمال کی طرف جاتے ہوئے ملتان جھنگ روڈ پر واقع ہے۔کل رقبہ تین لاکھ 85 ہزار 855 ایکڑ ہے۔:ادارہ شماریات کی 1998ء کی رپورٹ کے مطابق تحصیل کبیروالا کی آبادی چھ لاکھ 84 ہزار تھی جو اب بڑھ کر تقریباً دس تک

کبیروالا
کبیروالا پاکستان کا 118 بڑا شہر اور ضلع خانیوال کی سب سے بڑی تحصیل ہے۔یہ شہر خانیوال سے شمال کی طرف جاتے ہوئے ملتان جھنگ روڈ پر واقع ہے۔کل رقبہ تین لاکھ 85 ہزار 855 ایکڑ ہے۔:ادارہ شماریات کی 1998ء کی رپورٹ کے مطابق تحصیل کبیروالا کی آبادی چھ لاکھ 84 ہزار تھی جو اب بڑھ کر تقریباً دس تک لاکھ تک جا پہنچی ہے۔1947ء میں پنجابی بولنے والے بہت سے خاندان ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے اور اب پنجابی لب و لہجہ بھی یہاں کی مقامی زبان میں رچ بس گیا ہے
ساڑھے پانچ سو سال پہلے اوچ شریف میں سید جلال الدین سرخ پوش بخاری کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی روحانی شخصیت سید احمد کبیر بخاری نے اس دھرتی کو اپنا مسکن بنایا تو اس خطے کا نام کبیروالا پڑ گیا۔ کبیروالا کی تاریخ گندھارا تہذیب سے جا ملتی ہے جو اڑھائی ہزار سال پرانی ہے اس وقت کبیروالا ملتان کا حصہ تھا۔1937ء میں برطانوی دورِ حکومت میں سرائے سدھو میں موجود تحصیل ہیڈ کوارٹر کو کبیروالا منتقل کر دیا گیا۔شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر دور سردارپور کے موضع للیرہ کے مقام پر دریائے راوی اور دریائے چناب کا سنگم واقع ہے ہیڈ سدھنائی سے نکلنے والی سدھنائی کینال کبیروالا کے شمالی اور مغربی حصے کو سیراب کرتی ہے۔
گردوارہ مخدوم پہوڑاں جو اب پرائمری سکول میں تبدیل ہو چکا پے۔
1396ء میں امیر تیمور کا پوتا پنجاب پر حملہ آور ہوا تو وہ وہاں سے ہوتا ہوا کشتیوں کے ذریعے دریا عبور کر کے تلمبہ پہنچا جہاں اس نے ہندو فوج کا مقابلہ کیا پھر جب وہ ملتان کی طرف بڑھا تو کبیروالا میں اس نے قیام کیا اور یہ شہر اس کے پڑاؤ میں آیا ۔1817ء میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے نواب آف ملتان نواب مظفر خان پر فتح حاصل کرنے کے لیے دیوان بھوانی داس کی کمانڈ میں فوجی دستہ روانہ کیا جب وہ دریائے چناب عبور کر کے ملتان پہنچا تو اس نے دیوان مظفر خان سے جنگ کی بجائے خفیہ معاہدہ کر لیا جس پر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے نئی حکمت عملی تیار کی اور بڑی تعداد میں سکھ فوج نے کبیروالا میں پڑاؤ میں ڈال لیا اور مہاراجہ کو تمام ڈاک اسی مقام سے روانہ کی جاتی تھی۔1818ء میں نواب مظفر خان رنجیت سنگھ کی فوج کے ہاتھوں قتل ہوا اور اس کئی بیٹے بھی مارے گئے۔آبادی:
دارالعلوم عید گاہ کبیروالا ایک عظیم دینی درسگاہ ھے جہاں سے ھر سال پاکستان سمیت مختلف ملکوں سے سینکڑوں طلبا دینی علوم سے فیض یاب ھوتے ھیں..
۔کبیروالا اور اس کے

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں