37

شور کوٹ (تحصیل رپوٹر) بائے بائے موسم گرما سردی آتے ہی باربی کیو پکوان۔مچھلی۔پکوڑے خشک میوہ جات کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ جبکہ دیسی گھی کی پنیاں اور دال بنانے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی تفصیلات کے مطابق موسم تبدیل ہوتے ہی دوکانداروں اور

شور کوٹ (تحصیل رپوٹر) بائے بائے موسم گرما سردی آتے ہی باربی کیو پکوان۔مچھلی۔پکوڑے خشک میوہ جات کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ جبکہ دیسی گھی کی پنیاں اور دال بنانے کی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی تفصیلات کے مطابق موسم تبدیل ہوتے ہی دوکانداروں اور تاجروں نے سردی کے موسم کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے مصنوعی مہنگائی کا بازار سر گرم کر دیا گیا جس کی وجہ سے شہر کے بازاروں میں مچھلی کا گوشت مرغی کا گوشت بیف اور مٹن گوشت کے ساتھ ساتھ خشک میوہ جات اور انڈوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ہے مصالحے دار ڈشوں کی آڑ میں ناقص اشیائے کی فروخت بھی عروج پر پہنچ چکی ہے شور کوٹ شہر میں مچھلی 400 روپے سے لیکر 1600 روپے فی کلو اور مرغی کا گوشت 420سے لیکر 450 روپے فی کلو اور بیف گوشت 600 سے لیکر 1000روپے مٹن گوشت 1200 سے لیکر1800 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے اسی طرح خشک میوہ جات کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہے خاص طور پر سردیوں میں لوگ مونگ پھلی۔ریوڑی۔چلغوزے۔ بادام۔پستہ وغیرہ بڑے شوق سے استعمال کرتے ہیں مگر ناقص گلی سڑی مونگ پھلی 600روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے جبکہ اس مونگ پھلی کو صاف ستھرا کر کے 800 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ گری بادام 1800 سو روپے فی کلو فروخت کی جارہی ہے جس میں ریوڑی 500 روپے فی کلو خشک چھولے 800 روپے فی کلو جب کہ چھوہارے 1000 روپے فی کلو فروخت کئے جا رہے ہیں اس کے علاوہ چلغوزے غریب آدمی کی قوت خرید سے کوسوں میل آگے نکل گئے

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں