156

رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگهانی بیوروچیف آپ نے محبت میں انسانی جان دینے کی کئی کہانیاں اور داستانیں سنی ہونگی مگر کسی درخت کیلئے جان دینے والی کہانی آج آپ کو بتانا چاہتا ہوں ۔ سن 1773 کا قصہ ہے جب راجھستان کی ریاست جودھ پور کے راجہ ابیھے سنگھ نے اپنا نیا محل بنانے کا سوچا اور ماہر تعمیرات نے انہیں جنڈ کی لکڑی کے استعمال کرنے کی صلاح دی ، جنڈ کی اتنی بڑی مقدار کیلئے راجہ کے سپاہی ایک گاؤں آ پہنچے اس گاؤں کا نام کھجرلی تھا ۔

رپورٹ ڈاکٹر ایم لال واگهانی بیوروچیف
آپ نے محبت میں انسانی جان دینے کی کئی کہانیاں اور داستانیں سنی ہونگی مگر کسی درخت کیلئے جان دینے والی کہانی آج آپ کو بتانا چاہتا ہوں ۔

سن 1773 کا قصہ ہے جب راجھستان کی ریاست جودھ پور کے راجہ ابیھے سنگھ نے اپنا نیا محل بنانے کا سوچا اور ماہر تعمیرات نے انہیں جنڈ کی لکڑی کے استعمال کرنے کی صلاح دی ، جنڈ کی اتنی بڑی مقدار کیلئے راجہ کے سپاہی ایک گاؤں آ پہنچے اس گاؤں کا نام کھجرلی تھا ۔
کھجرلی کو راجھستانی زبان میں جنڈ کہتے ہیں ، اس گاؤں میں جنڈ کے درخت وافر مقدار میں موجود تھے۔

اسی گاؤں میں ایک عورت امریتا دیوی اپنی تین بیٹیوں آسو ، رتنی اور بھاگو بائی کے ساتھ رہتی تھیں

یہ علاقہ پورے خطے میں سب سے زیادہ سر سبز تھا ، یہ گاؤں گرو جم بھیشور جی کے پیرو کاروں کا تھا جو اپنے اُنتیس (29) ماحول اور انسان دوست اصولوں کی وجہ سے بھشنوئی کہلاتے ہیں۔ بھشنوئی عقیدے میں کسی بھی جانور کا شکار کرنا اور کوئی سر سبز درخت کاٹنا ممنوع ہے اور کسی بھی حالت میں اس کی کوئی اجازت نہیں ہے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا کہ جنڈ کو راجستھان میں کھجرلی کہتے ہیں۔ اسی طرح سندھ میں اسے کنڈی ، سرائیکی میں کنڈا ، پنجاب میں جنڈ ، عرب اسے غاف کے نام سے پکارتے ہیں ، سنسکرت اور گجراتی میں اسے سمّی کہا جاتا ہے۔

امریتا دیوی کی موجودگی میں راجہ کے سپاہیوں نے سمّی کو کاٹنا چاہا تو امریتا دیوی درمیان میں آ گئی اور انہیں ایسا کرنے سے روکا مگر سپاہی نہ رکے تو امریتا دیوی درخت کے تنے سے یہ کہتی ہوئی لپٹ گئی کہ اگر اس درخت کو کاٹنا چاہتے ہو تو اس کیلئے پہلے مجھے کاٹنا پڑے گا اور سپاہیوں نے امریتا دیوی کے جسم کو کاٹ دیا ، امریتا دیوی کے درخت کے ساتھ کٹنے کے بعد ان کی تینوں بیٹیوں آسو ، رتنی اور بھاگو بائی نے بھی یہ کہتے ہوئے ماں کی پیروی کی کہ
سمّی میری وار (باری ) میں واری (میں قربان) ، نی سمی اے

اور یوں گاؤں کے درختوں کو کٹائی سے بچانے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں ، امریتا دیوی اور ان کی بیٹیوں کی موت کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی اور لوگوں نے اپنے گاؤں کے درختوں کو بچانے کے لیے ان سے لپٹ کر جانوں کا نذرانہ پیش کرنا شروع کردیا۔

جب تک راجہ کو خبر ہوتی اس دوران 363 لوگ اپنی جان دے چکے تھے جس کی ابتدا امریتا دیوی اور اس کی بیٹیوں نے رکھی تھی اور اس کے بعد راجہ ابیھے سنگھ کی مداخلت کے بعد یہ سلسلہ رکا ۔

سمّی میری وار ، میں واری
میں واری آں نی سمئیے

ترجمہ:
سمّی میری باری ہے ، میں قربان
میں جان قربان کرتی ہوں ، اے سمّی

اب اس زبان کے بارے کئی آرا ہیں کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ گجراتی زبان ہے ، کوئی اسے پنجابی کہتا ہے تو شفا اللہ روکڑی کے گانے کے بعد اسے سرائیکی زبان کہا جانے لگا جبکہ سچ تو یہ ہے کہ کسی کو بھی اس گیت کا مطلب معلوم نہیں ہے ۔

یہ گیت اکثر شادی بیاہ کے مواقع پر گایا جاتا ہے اور خالصتاً زنانہ رقص پر مشتمل ہے ۔

کھجرلی صحرا میں اگنے والے اس محبوب درخت کے نام پر کہ جس پر 363 لوگوں نے جان بھی قربان کر دی

کھجرلی ، سمی ، جنڈ ایک ہی محبوب جس کے کئی نام ہیں ، پورے برصغیر میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے خشک اور صحرائی علاقے اس کا مسکن ہیں۔ اسی طرح ایران ، سعودی عرب اور امارات کے بے آب و گیاہ تپتے میدان اس کا گھر ہیں۔

قدیم عقائد میں جنڈ کی لکڑی کی آگ کو مقدس مانا جاتا تھا اور خوشی کے موقع پر اس کے گرد لڑکیاں ایک منفرد اور دلفریب رقص کرتی تھیں جسے سمی کہا جاتا تھا۔

پاکستان میں اب بھی پنجاب کے کچھ علاقوں میں یہ رقص باقی ہے۔ سمی دراصل عورتوں کے لیے مخصوص ہے اور مردوں کے رقص جھومر کا متبادل ہے۔

ہماری لوک داستانوں میں ایک قصہ ڈھول سمی کا بھی ہے۔ ہماری لوک داستانیں منظوم ہیں اور انہیں گانے کا بھی ایک مخصوص انداز ہے۔ ڈھول سمی عموماً شادی بیاہ کے مواقع پر ہی کیا جاتا ہے۔

ایک لڑکی درمیان میں کھڑے ہو کر گاتی ہے اور باقی دائرے میں اس کے گرد گھوم کر رقص کرتی ہیں اور تالی سے تال دے کر سماں باندھ دیتی ہیں۔

تحریر و تحقیق
نثار نندوانی
#نثاریات

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں