159

🖋️ایک عبرتناک واقعہ ڈاکٹر امجد کا جنازہ تھا‘ ڈاکٹر امجد ایڈن ہاؤسنگ سکیم کا مالک تھا‘ اس کے والد ڈپٹی کمشنر رہے تھے اور یہ آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کا داماد تھا‘

🖋️ایک عبرتناک واقعہ

ڈاکٹر امجد کا جنازہ تھا‘ ڈاکٹر امجد ایڈن ہاؤسنگ سکیم کا مالک تھا‘ اس کے والد ڈپٹی کمشنر رہے تھے اور یہ آئی جی پنجاب سردار محمد چودھری کا داماد تھا‘

اللہ تعالیٰ نے اس پر دولت کی بارش کی اور یہ اس بارش میں بھیگتا بھیگتا کیچڑ میں جا گرا‘

اس نے سب سے پہلے ایڈن ہاؤسنگ سکیم کے 13 ہزار ممبرز کے دس ارب روپے ہڑپ کیے

اور پھر اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں نذر گوندل کے بھائی ظفر گوندل کے ساتھ مل کر
ای او بی آئی کی رقم بھی اڑالی‘

ڈاکٹر امجد نے فرضی پلاٹ دے کر ظفر گوندل سے دو ارب روپے لیے تھے
اور یہ دونوں بعدازاں یہ رقم آدھی آدھی کر کے نگل گئے‘ متاثرین نے احتجاج شروع کیا‘

افتخار محمد چودھری چیف جسٹس تھے‘ سو او موٹو ہوا‘ عدالت میں پیشیاں شروع ہوئیں‘ لاہور کے ایک وکیل کےذریعے چیف جسٹس اور ملزم کے درمیان رابطہ ہوا اور یہ رابطہ بہت جلد رشتے داری میں بدل گیا‘

ڈاکٹر امجد کے صاحبزادے مرتضیٰ امجد اور افتخار محمد چودھری کی صاحبزادی افرا افتخارکی شادی ہو گئی

اور یوں ایڈن ہاؤسنگ سکیم اور
ای او بی آئی کے کیسز کھوہ کھاتے چلے گئے

‘ دور بدلا‘ نیب کے مقدمے شروع ہوئے تو پورا خاندان ملک سے بھاگ گیا‘

نیب نے ریڈ وارنٹ جاری کر دیے‘ ایف آئی اے نے 26 ستمبر 2018ء کو مرتضیٰ امجد کو دوبئی سے گرفتار کر لیا‘

افتخار محمد چودھری نےکوشش کی لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریڈ وارنٹ کو غیرقانونی قرار دے دیا
اور یہ لوگ خاندان سمیت کینیڈا شفٹ ہو گئے‘
کیسز چلتے رہے اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ ڈاکٹر امجد کو بچاتا رہا‘

فراڈ کی رقم 25 ارب روپے تک پہنچ گئی‘

یہ اس دوران پلی بارگین کے لیے بھی راضی ہو گیا لیکن یہ تین ارب روپے دے کر 25 ارب روپے معاف کرانا چاہتا تھا‘ نیب نہیں مانا‘

یہ اس دوران کسی پراسرار بیماری کا شکار ہو گیا‘ پاکستان آیا‘ علاج شروع ہوا لیکن طبیعت بگڑتی رہی یہاں تک کہ دنیا بھر کے ڈاکٹرز‘ ادویات اور افتخار محمد چودھری کا اثرورسوخ بھی کام نہ آیا

اور ڈاکٹر امجد 23 اگست 2021ء کو لاہور میں انتقال کر گیا‘
لواحقین نے اسے خاموشی کے ساتھ دفن کرنے کی کوشش کی لیکن

متاثرین کو خبر ہو گئی اور یہ
پلے کارڈز اور پوسٹرز لے کر پہلے اس کے گھر اور پھر جنازے پر پہنچ گئے

اور ’’ہماری رقم واپس کرو‘‘ کے نعرے لگانے لگے‘ پولیس بلائی گئی‘پولیس جنازے اور احتجاجیوں کے درمیان کھڑی ہو گئی‘

پولیس کی مدد سے جنازہ اٹھایا گیا اور پولیس ہی کی نگرانی میں ڈاکٹر امجد کو دفن کیا گیا‘

آج اس واقعے کو 8دن ہو چکے ہیں
لیکن متاثرین اس کی قبر پر بھی آ جاتے ہیں جس کی وجہ سے خاندان نے وہاں گارڈز کھڑے کر دیے ہیں

۔یہ انتہا درجے کا عبرت ناک واقعہ ہے لیکن آپ اس سے بھی بڑی عبرت ملاحظہ کیجئے

‘ ڈاکٹر امجد نے جس خاندان اور جن بچوں کے لیے 25 ارب روپے کا فراڈ کیا تھا‘

وہ جنازے کے وقت کینیڈا میں بیٹھے تھے اور ان میں سے کوئی شخص اسے مٹی کے حوالے کرنے کے لیے پاکستان نہیں آیا تھا

۔یہ واقعہ دولت کے پیچھے باؤلے ہونے والے بے وقوفوں کے لیے
نشان عبرت ہے

‘ یہ ثابت کرتا ہے انسان جب ہوس کے کیچڑ میں گرتا ہے تو یہ پھر انسان نہیں رہتا‘
یہ بدبودار کیچڑ بن جاتا ہے‘ آپ نے کبھی غور کیا دولت آخر ہے کیا؟
یہ صرف کاغذ کے ٹکڑے ہیں اور یہ کاغذ کے ٹکڑے جل بھی سکتے ہیں‘ گل بھی سکتے ہیں‘ پھٹ بھی سکتے ہیں
اور کینسل بھی ہو سکتے ہیں

یا پھر دولت بینکوں کی سٹیٹمنٹ پر چھپی ہوئی چند فگرز اوران کے آخر میں بے شمار صفر ہیں اور یہ صفر اور یہ بینک بھی کسی بھی وقت ختم ہو سکتے ہیں یا

پھر دولت اللہ کی زمین کے چند ٹکڑے ہیں اور ان ٹکڑوں کا اصل مالک کون ہے؟

ہمارا رب اور یہ رب جب چاہے اپنی لیز جس کے نام چاہے شفٹ کر دے اور بس‘سوال یہ ہے ہم پھر پرائے مال کے لیے کیوں باؤلے ہوجاتے ہیں‘

ہم زمینی ٹکڑوں‘ بینکوں کے زیروز اور کاغذ کے نوٹوں کے لیے بددعاؤں کی فصل کیوں بوتے ہیں؟

ہم لوگوں کی آہیں‘ بددعائیں اور لعنتیں کیوں اکٹھی کرتے ہیں اور کس کے لیے کرتے ہیں؟

ان کے لیے جو ہماری آنکھیں بند ہوتے ہی ہمارے مال کے لیے ایک دوسرے کا گلا کاٹنے لگتے ہیں یا ہم سے ہزاروں میل دور بیٹھ کر ابا مرحوم‘ ابا مرحوم کہتے رہتے ہیں اور ہمیں دفن پرائے لوگ کرتے ہیں‘

میں اکثر اپنے دوستوں سے عرض کرتا ہوں آپ کی عمر اگر 50 سال ہو چکی ہے تو آپ پلیز پلیز اپنی چارج شیٹ سے گناہ‘ حرص اور فراڈ کو خارج کر دیں‘
آپ نے جس سے معافی مانگنی ہے مانگ لیں‘ جس کو جو دینا ہے دے دیں اور جتنی توبہ کرنی ہے کر لیں‘ آپ کے پاس زیادہ مہلت نہیں ہے‘ زندگی کی رسی کسی بھی وقت کھینچ لی جائے گی اور آپ یہ حقیقت جتنی جلدی سمجھ جائیں گے آپ کے لیے اتنا ہی اچھا ہو گا اور

آپ یہ بھی جان لیں چیونٹیوں کا اکٹھا کیا ہوا رزق ہمیشہ چوہے کھاتے ہیں لہٰذا خدا کے لیے چیونٹیوں کی زندگی نہ گزاریں‘ اپنے قد سے بڑے دانے نہ کھینچیں اور اپنی ضرورت سے زیادہ جمع نہ کریں‘

آپ کی حرص آپ کو جینے نہیں دے گی اور آپ کا جمع کیا ہوا
پلے کارڈ بن کر آپ کے جنازے کے آگے آگے چلتا رہے گاجب کہ آپ کی ہوس کے بینی فشری پانچ دس ہزار کلو میٹر دور بیٹھ کر اپنے دوستوں کو ’’مائی ڈیڈ پاسڈ اوے‘‘ کے میسج کرتے رہیں گے اور ان کے دوست ’’او ہو‘‘ کا جواب دے کر پارٹی میں مصروف ہو جائیں گے چناں چہ رک جائیں‘ آگے کھائی ہے اور اس کھائی میں ڈاکٹر امجد جیسے ہزاروں لوگ گرے پڑے ہیں۔

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں