15

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: سرٹیفکیٹ آف ویکسینیشن آئی ڈی۔۔۔!!* *کالمکار: جاوید صدیقی* کافی عرصہ بعد ہم نے اپنے صحافی دوست انویسٹی گیٹر رپورٹر بسمہ نورین سے رابطہ کیا سب سے پہلے ان کی خیریت جانی اور انکے حوصلے کو سراہا۔ انہیں بتایا کہ ھم نے بھی پریس

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: سرٹیفکیٹ آف ویکسینیشن آئی ڈی۔۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

کافی عرصہ بعد ہم نے اپنے صحافی دوست انویسٹی گیٹر رپورٹر بسمہ نورین سے رابطہ کیا سب سے پہلے ان کی خیریت جانی اور انکے حوصلے کو سراہا۔ انہیں بتایا کہ ھم نے بھی پریس کلب میں جاکر کرونا ڈیسک پہنچ کر کرونا ویکسین کا پہلا ڈوز دلگوالیا ھے۔ یہ سن کر وہ کچھ پریشان سی ھوگئی انھوں نے مجھے بتایا کہ کرونا ویکسینیشن اور فائیو جی ٹیکنالوجی کا گٹھ جوڑ گورنمنٹ کی یہودی پالیسی اور کووڈ آخر کوڈ ہے کیا کوئی نہیں جانتا کورونا کی دوسری شکل کووڈ جس سے شائد ہی کوئی واقف ہو تو بسمہ آپکو بتاتی ہے کہ کووڈ اصل میں سرٹیفکیٹ آف ویکسینیشن آئی ڈی ہے۔ وہ مجھ سے کہنے لگیں سمجھ آرہا ہے جب ویکسین اور سرٹیفیکٹ کا نام نہیں تھا اس وقت کووڈ تھا یعنی بنی اسرائیل کا دجالی پلان ایوری تھنگ از انڈر کنٹرول جب ویکسین آنے سے پہلے ہی کووڈ موجود تھا مطلب آپ کو دجالی سسٹم میں لانے کیلئے آپکو ویکسینیشن آئی ڈی یعنی ڈیجیٹل شناخت دی جائے گی سمجھ آئی ڈیجیٹل شناخت یہ بات تو آپ بخوبی جانتے ہیں آج کل جو بہت عام ہوچکی کہ دجال ایک جگہ سے گزرے گا جہاں ایک شخص اپنے دماغ میں سوچ رہا ہوگا کہ کاش اسکے ماں باپ زندہ ہوجائیں جو دجال سمجھ جائے گا اور اس شخص سے کہے گا کہ اگر میں تیرے ماں باپ کو زندہ کردوں تو کیا تو مجھے خدا مان لے گا کیونکہ اللہ نے شیطان کو قیامت تک کیلئے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔اسی لئے شیاطین بھی الله کے حکم سے دجال کے تابع ہوجائیں گے اور اس شخص کے ماں باپ کے جسم میں داخل ہوکر اس شخص کو کہیں گے کہ بیٹا یہ تیرا خدا ہے جی جناب آپکی ڈیجیٹل آئی ڈی جس کے بغیر اب آپ کی شناخت بنائی جائے گی ویکیسن کے ذریعے آپ کے جسم کے اندر نینو چپ داخل کی جارہی ہے یہ بات بھی سب ہی جانتے ہیں کہ الیکٹرانک آئٹمز کے اندر مائیکرو کیمرہ فٹ ہیں جو آپ کے گھر کا منظر بھی سپر کمپیوٹر پر دکھائیں گے وہ سپر کمپیوٹر دجال کاہوگا جو ایک جگہ بیٹھ کر پوری دنیا ڈیجیٹلائز طریقے سے کنٹرول کریگا جس کیلئے یہ سرٹیفکیٹ آف ویکسینیشن آئی ڈی آپ کو دی جارہی ہے اب فائیو جی ٹاور کیا ہے جو بظاہر تو آپ کو انٹرنیٹ اسپیڈ بتائیں گے لیکن ہر گلی میں لگنے والے فائیو جی ٹاور سے آپ کے علاقے اور گھروں کا کنٹرول آپ کہاں جارہے ہیں کیا سوچ رہے ہیں اکثر فلموں میں دکھایا گیا ہے یہ سب پکچرائز کرکے لیکن اس وقت یہ سب انسانی سوچ کیلئے یقین کرنا ناقابل یقین عمل تھا جبکہ موجودہ حالات نے سارا سین شیشے کی طرح صاف کردیا ہے ۔عالمی سطح پر سائنسی جرم گھناؤنی سازش دین اسلام کے خلاف یہودی فتنہ کا اٹھتا سر جس میں ڈالروں کو منہ میں بھرتی پاکستانی حکومت کے حکمران جن کی اوقاتیں کسی جانور سے زیادہ نہیں ہے عوام کی زندگیوں کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ آخر زبردستی ویکسین لگانے کا مقصد کیا ہے اس بات کی گارنٹی کون دے گا ان سب جانوروں نے سب سے پہلے ویکسین لگائی ہے یا نہیں اور آیا لگائی بھی ہے تو کیا وہی ویکسین ہے یا وٹامنز کے انجیکشن ہیں یہ بات کون ثابت کرے گا آور ان سب جانور سیاستدانوں کہ پاس کیا ثبوت ہیکہ انہوں نے ویکسین لگوائی اور یہی ویسکیسن عوام کو لگ رہی ہے نہ صرف سرکاری بلکہ عام دکاندار اور عوام کو بھی صحت مند ہونے کے باوجود انہیں کاروبار اور تنخواہوں سے محرومی بلیک میلنگ کے ذریعے ویکسین لگانا دجالی سسٹم کو فروغ دینا نہ صرف سندھ بلکہ وفاقی حکومت کی بھی ملی بھگت ہے۔ پرائیویٹ فیکٹریوں، کالجوں،اسکولوں میں خاموشی کیساتھ نوٹس بھیجنا کہ اپنے ورکرز اسٹوڈنٹ اور دکاندار سب ویکسین لگائیں گے تو تنخواہ ملے گی، بچے امتحان دینگے, دکاندار کاروبار کریں گے اور مسافر سفر کرینگے نادرا سے سرٹیکفکیٹ لیکر کیا نادرا کے پاس ایسا کوئی بھی اختیار ہیکہ وہ شناختی کارڈ یا ب فارم کے علاوہ اب ویکیسینش سرٹیفکیٹ کا اجراء بھی کریگا اور اگر ہے تو کس قانون کے تحت کیا گورنمٹ کے پاس یہ اختیار ہیکہ وہ عوام کو پابند کردے کہ وہ ویکسین لگانے پر مجبور ہوجائیں اور ہے تو کس قانون کے تحت کیونکہ بسمہ تو اتنا جانتی ہے کہ آرٹیکل 8(2) کے تحت گورنمنٹ کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ ایسا کوئی بھی قانون وضع کرے جو عوام کی آزادی سلب کردے آیا این سی او سی کی کیا قانونی حیثیت ہے یا اس کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی کیا قانونی اور آئینی حیثیت ہے جبکہ سنہ انیس سو تئیتالیس سے سنہ انیس سو انہتر تک سائنسی دنیاکے سنگین جرائم سے داستان بھری پڑی ہے جسے آج تک کوئی نہیں سمجھ سکا۔ امریکی سائنسدانوں کی جانب سے سات ایسے حیاتیاتی ہتھیار تیار کئے گئے جو حریف علاقوں میں آباد لاکھوں انسانوں کو مختلف خطرناک بیماریوں میں مبتلا کرسکتے ہیں چونکیئے مت سب سچ ھے چیچک، زرد بخار، ٹائفائیڈ اور ایسے بہت سے دیگر امراض جو آپ کی پیدائش کے بعد ہی آپ کے جسم میں حفاظتی ٹیکوں کی مد میں داخل کردئیے جاتے ہیں جن کا شکار تقریبا ہر انسان کسی نہ کسی بیماری میں لازمی مبتلا ہوجاتا ہے۔ بسمہ نورین نے بتایا کہ انھوں نے دائر کردہ آئینی درخواست فائیو جی ٹیکنالوجی اور کورونا ویکسینیشن کی روک تھام کےخلاف جس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی آل یو کے کی ویکسین کے مضر اثرات کی مکمل رپورٹ بھی شامل ہے لیکن گورنمنٹ کی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ جتنا سچ سامنے لایا جائے یہ اتنا جھوٹ عام کرتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ جنگ بدر میں تین سو تیرہ کا لشکر تھا جب علیؓ کے ہاتھوں سے چالیس من وزنی درخیبر کا اکھڑ جانا وہ یہودیوں کی عبرتناک شکست۔ یاد رکھنا دجال کی آمد سے لیکر اس کا اختتام حضرت عیسی علیہ السلام ھے۔ عالمی طاقتوں کے تیرہ خفیہ خاندان وہ دیمک ہیں جو تمہیں چاٹ رہے ہیں تمہیں تمہارے دین کو کھوکھلا کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن تم مت بھولنا۔اپنی آنے والی نسلوں کو ویکسین کیلئے نہیں بلکہ جہاد کیلئے تیار رکھنا تین سو تیرہ کے لشکر میں شائد کوئی خوش نصیب شامل ہوجائے۔

*ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہوجائے گلشن کا سکوں*

*نادان سمجھ بیٹھے ہم میں قوت للکار نہیں*
معزز قارئین!! پاکستان سمیت دنیا بھر میں کووڈ ویکسین کے متعلق جدا جدا نظریات پیدا ھوگئے ہیں جس میں امام کعبہ سے لیکر دنیائے اسلام کے مذہبی اسکالرز, مفتیان پیر عظام نے کووڈ ویکسینیشن کرنے کی ترغیب کا عمل آج تک جاری ھے ۔۔۔!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں