65

ہد ہد وہ واحد پرندہ ہے. جو زندگی میں صرف ایک بار شادی کرتا ہے اور اپنے جیون ساتھی کے وفات کے بعد اکیلے ہی زندگی گزارتا ہے یہ اپنی مادہ مہر کو کھانے کی کوئی چیز پیش کرتا ہے آگر وہ اسے کھا لےتو اس کا مطلب ہے کہ وہ شادی کے لیے راضی ہے پھر نر اس مادہ کو اپنے گھونسلے کی طرف لے کر جاتا ہے اکثر اوقات کسی درخت میں سوراخ کرکے بنایا ہوتا ہے۔

ہد ہد وہ واحد پرندہ ہے.

جو زندگی میں صرف ایک بار شادی کرتا ہے اور اپنے جیون ساتھی کے وفات کے بعد اکیلے ہی زندگی گزارتا ہے یہ اپنی مادہ مہر کو کھانے کی کوئی چیز پیش کرتا ہے آگر وہ اسے کھا لےتو اس کا مطلب ہے کہ وہ شادی کے لیے راضی ہے پھر نر اس مادہ کو اپنے گھونسلے کی طرف لے کر جاتا ہے اکثر اوقات کسی درخت میں سوراخ کرکے بنایا ہوتا ہے۔

اگر اس کو پسند آ جائے تو دونوں رشتہ زواج میں منسلک ہو جاتے ہیں مادہ ہمیشہ ہر موسم میں عموماً چھ سے آٹھ آنڈے دیتی ہے اور بچے پیدا ہونے کے بعد باری باری خوراک کا بندوست کر لیتی ہے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی کو خوراک کی چیز مل جائے تو وہ اسے اکیلے نہیں کھاتے بلکہ دونوں اکھٹے ہونے کے بعد ہی اسے کھا لیتے ہیں۔

ہد ہد کی چھٹی حس اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ زمین کے اوپر سے ہی پانی کو محسوس کر لیتا ہے اسی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام اس سے زیر زمین پانی ڈھونڈنے کا کام لیتے تھے ہدہد ہزاروں میل کا سفر بغیر رکے طے کرنے کی طاقت رکھتا ہے اسی وجہ سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے دوسرے ملک ملکہ بلقیس کو خط لکھ کر بھیجا تھا۔

ہد ہد کی ازدواجی زندگی آج کے دور کی انسانوں کے لیے ایک مثال ہے کہ عقل نہ رکھنے کے باوجود بھی ایک دوسرے کا کتنا خیال رکھتے ہیں اور انسانوں کی زندگی کی آپس میں جھگڑنے ہی ختم نہیں ہوتے۔💖💖

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں