9

سکھر بیورو چیف سید نصیر حسین زیدی دعاآن لاین نیوزایچ ڈی ٹی وی نیوز چینل سندھ آپکی تحریر شالح کردی گی تاکہ سب کیلے۔۔۔۔۔۔۔ 🌹 *9 رجب منسوب با ولادت باسعادت شہزادہ علی اصغرؑ* 🌹

سکھر
بیورو چیف
سید نصیر حسین زیدی
دعاآن لاین نیوزایچ ڈی
ٹی وی نیوز چینل سندھ
آپکی تحریر شالح کردی گی تاکہ سب کیلے۔۔۔۔۔۔۔
🌹 *9 رجب منسوب با ولادت باسعادت شہزادہ علی اصغرؑ* 🌹

اہلبیت علیہم السلام کی ذوات مقدسہ طہارت و عصمت، منابع نور اور معرفت کی کانیں ہیں۔ اس خاندان بزرگوار سے تعلق رکھنے والا ہر فرد خواہ وہ سن صغیر کا مالک ہو یا سن کبیر کا، اپنی جگہ خورشید عصمت و طہارت، تقویٰ، شجاعت، شہامت اور قیامت تک مخلوق خدا کیلئے سرچشمہ ہدایت ہیں۔ یہ عنوان بھی ایک ایسی معصوم ہستی کے بارے میں ہے جو سن کے اعتبار سے سفینہ کربلا میں سب سے چھوٹی تھی لیکن معرفت و ولایت کے اعتبار سے اکمل تھی اور کرب و بلا ایک ایسا سفینہ ہے جس میں ہر عمر سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے نمونہ عمل موجود ہے۔

⭕ *شہزادہ علی اصغر علیہ السلام کا تعارف*

● والد کا اسم گرامی امام حسینؑ بن علیؑ بن ابوطالبؑ بن عبدالمطلبؑ.(1)

● والدہ کا اسم گرامی جناب رباب بنت امراءالقیس بن عدی بن اوس بن جابر بن کعب بن علیم بن جناب بن کلب تھا۔(2)

ہشام کلبی لکھتے ہیں؛ ’’و کانت الرباب من خیار النساء و افضلھن‘‘

جناب ربابؑ بہترین اور افضل ترین عورتوں میں سے تھیں۔ اور جناب ربابؑ کے والد گرامی عرب کے عظیم خاندان کے اشراف میں سے تھے کہ جن کی امام کے نزدیک بھی قدر و منزلت تھی۔(3)

امام حسینؑ کی جناب ربابؑ سے دو اولادیں تھیں شہزادی سکینہؑ اور شہزادہ علی اصغرؑ۔

■ سن مبارک
بعض مؤرخین اور مقتل نگار جن میں فضیل بن زبیر (جو امام جعفر صادقؑ کے زمانے تک زندہ رہے) اور یعقوبی(۲۸۳ق م) کہتے ہیں کہ امام حسینؑ کے یہ فرزند بروز عاشورہ اس دنیا میں تشریف لائے۔(4)

محمد بن سعد (۲۳۰) لکھتے ہیں کہ امام حسینؑ کے اس فرزند کا سن مبارک تین سال تھا جس کو عقبہ بن بشر اسدی نے تیر مار کر شہید کیا تھا۔(5)

بلعمی چوتھی صدی کا مؤرخ طفل صغیر کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس طفل کا سن مبارک میدان کربلا میں ایک سال تھا۔(6)

مشہور شاعر کسانی مروزی اور چوتھی صدی کے دوسرے شاعر اس طفل صغیر کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ طفل کربلا میں 5 ماہ کا تھا.(7)

لیکن مشہور قول ان اقوال کے علاوہ ہے۔ ماہتاب امامت کی اس کرن کی عمر کرب و بلا میں چھ ماہ کی تھی اس قول کا مدرک و ماخذ فقط ایک کتاب ہے لیکن گزشتہ دو صدیوں سے اس قول کی اتنی تبلیغ ہوئی کہ آج ہر محفل، مجلس اور کسی بھی پروگرام میں جہاں جناب علی اصغرؑ کا نام آتا ہے اسی قول کی شہرت ہے اور یہی مشہور ہوگیا کہ یہ پهول نو یا دس رجب المرجب 60ہجری کے دن مدینہ منورہ میں امام حسینؑ کے گلشن میں کھلا جس کی خوشبو سے پورا مدینہ مہک اٹھا۔(8)

■ اسم مبارک
معصوم کے اسم مبارک کے بارے میں دو مختلف روایتیں ملتی ہیں۔
● ایک روایت کے مطابق آپکا اسم گرامی ’’علی‘‘ تھا۔(9)
● دوسری روایت کے مطابق آپ کا اسم گرامی ’’عبداللہ‘‘ تھا۔(10)

اس کی دو وجہیں بیان ہیں اولاً روایات میں یہ ملتا ہے کہ مولود اگر لڑکا ہو تو اس کا نام پہلے سات دن تک محمد یا علی رکھا جائے اور مولود اگر لڑکی ہو تو اس کا نام پہلے سات دن فاطمہ رکھا جائے۔(11)

ثانیاً روز عاشورہ دو شہید ایسے تھے جن کا سن مبارک صغیر تھا جن میں سے ایک کا نام جناب علی اصغرؑ اور دوسرے معصوم کا نام عبداللہ تھا. بعض ارباب مقاتل نے دونوں شہزادوں کا ذکر کیا ہے۔(12)

دوسرا قول زیادہ معتبر ہے کہ شہزادہ کا اسم گرامی ’’عبداللہ‘‘ تھا لیکن پہلے قول کی تائید بھی کتب مقاتل میں ملتی ہے جیسے یزید ملعون نے امام زین العابدینؑ سے ان کے اسم کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا میرا نام ’’علی‘‘ ہے۔ جس پر وہ ملعون کہنے لگا وہ تو کربلا میں شہید کر دئیے گئے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا وہ میرے بھائی ’’علی بن الحسین ‘‘ تھے. یہ ملعون کہتا ہے کہ کیا وجہ ہے آپ کے والد نے ہر بیٹے کا نام علی رکھا ہے؟ امام زین العابدینؑ نے فرمایا کیونکہ وہ اپنے والد محترم امام علی علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے جسکی وجہ سے اپنے ہر بیٹے کا نام علی رکھا ہے۔(13)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہزادہ کا اسم گرامی علی تھا اگرچہ ارباب مقاتل کے درمیان شہرت جناب عبداللہ کی ہے جیسا کہ امام زمانہ عج نے زیارت قائمیہ میں اس شہزادے کو عبداللہ کے نام سے تعبیر کیا ہے اور تصریح فرمائی ہے کہ بعد از شہادت اس شہزادے کا خون آسمان کی طرف پھینکا گیا اور شہزادے کے قاتل کا نام حرملہ ملعون تھا۔(14)

🔘 بقاء اسلام، حیات اسلام اور تاریخ اسلام میں اس معصوم شہزادے کا خصوصی حصہ ہے جہاں پر بھی اسلام کی بات ہوگی اس معصوم کا ذکر ضرور ہو گا۔

📚 حوالہ جات
1۔ بحارالانوار،ج۴۳۔
2۔ مقاتل الطالبین،ص۸۹۔
3۔ قمقام زخار،ج۲،ص۶۵۴۔
4۔ کوفی اسدی،منقتل مع الحسین،ص۱۵۰۔
5۔ محمدبن سعد،ترجمہ الحسین ومقتلہ،ص۱۸۲۔۔
6۔ ابوعلی محمدبلعمی،تاریخنامہ طبری،ج۴،ص۷۱۰۔
7۔ ذبیح اللہ صاحب کاری،سیریدرمرثیہ عاشورایی،ص۱۶۹۔
8۔ مقتل ابومخنف،ص۱۲۹۔
9۔ بحارالانوار،ج۴۵،ص۳۳۱
10۔ شیخ مفید،ارشاد،ج۳،ص135. ۱۶۔اعلامالوریٰ،ص۲۵۱۔
11۔ وسائل الشیعہ ج۱۵،ص۱۲۵۔
12۔ مناقب ابن شہرآشوب،
13۔ ال ملہوف،ص۲۰۲۔
14۔ بحارالانوار،ج۴۵،ص۴۴۔

*احادیثِ معصومین ع، فقہی مسائل اور مجالس کی وڈیوز کے لئے جوائن کریں کربلائی وٹس ایپ سروس*
*03354402061*
*03314737175*

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں