0

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: شرعی اعتبار سے مدد کریں، پیشہ ورانہ بھکاریوں کا بائیکاٹ* *کالمکار: جاوید صدیقی*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: شرعی اعتبار سے مدد کریں، پیشہ ورانہ بھکاریوں کا بائیکاٹ*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

شوشل میڈیا میں ایک ایسی خبر گردش کررھی ھے جس سے اگر پاکستانی عوام اور بلخصوص کراچی کی عوام سبق حاصل کرلے تو ھم ایک جانب باوقار باعزت قوم نظر آئیں گے بلکہ خوشحال ترقی یافتہ قوم کی صف میں دو قدم آگے ھونگے لیکن ایسا ممکن کیوں نہیں اسکی سب سے بڑی وجہ جہاں ھماری قوم ھے وہیں فلاحی ادارے اور این جی اوز برابر کے مجرم ھیں۔ ھم اپنی اس عادت کو قرآن و احادیث کی روشنی میں صحیح سمت اور درست عمل کیساتھ کریں تو اللہ کی برکتیں رحمتیں اور فضل و کرم کا سلسلہ لامتناہی جاری رہ سکتا ھے آئیے اس بات کو سمجھتے ھیں۔ اللہ سبحان تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گداگری یعنی بھیک پر لعنت بھیجی ھے ذرا ملاحظہ کیجئے کہ پاکستان میں بھکاریوں سے متعلق حیران کن حقائق اور تحقیق سامنے آئی ھے کہ چوبیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں تین کروڑ اسی لاکھ بھکاری ہیں جس میں بارہ فیصد مرد، پچپن فیصد خواتین، ستائیس فیصد بچے اور بقایا چھ فیصد سفید پوش مجبور افراد شامل ہیں. ان بھکاریوں کا پچاس فیصد کراچی، سولہ فیصد لاہور، سات فیصد اسلام آباد اور بقایا دیگر شہروں میں پھیلا ہوا ہے. کراچی میں روزانہ اوسط بھیک دو ہزار روپے، لاہور میں چوہ سو اور اسلام آباد میں نو سو پچاس روپے ہے. پورے ملک میں فی بھکاری اوسط آٹھ سو پچاس روپے ہے. روزانہ بھیک کی مد میں یہ بھکاری بتیس ارب روپے لوگوں کی جیبوں سے نکال لیتے ہیں. سالانہ یہ رقم ایک سو سترہ کھرب روپے بنتی ہے۔ ڈالر کی اوسط میں یہ رقم بیالیس ارب ڈالر بنتی ہے.
بغیر کسی منافع بخش کام کے بھکاریوں پر ترس کھا کر انکی مدد کرنے سے ہماری جیب سے سالانہ بیالیس ارب ڈالر نکل جاتے ہیں.
اس خیرات کا نتیجہ ہمیں سالانہ اکیس فیصد مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اور ملکی ترقی کیلئے تین کروڑ اسی لاکھ افراد کی عظیم الشان افرادی قوت کسی کام نہیں آتی جبکہ ان سے کام لینے اور معمولی کام ہی لینے کی صورت میں آمدنی اڑتیس ارب ڈالر متوقع ہے جو چند برسوں میں ہی ہمارے ملک کو مکمل اپنے پاؤں پر نہ صرف کھڑا کرسکتی ہے بلکہ موجودہ بھکاریوں کے لئے باعزت روزگار بھی مہیا کرسکتی ہے. اب اگر عوام اسی مہنگائی میں جینا چاہتے ہیں اور اپنے بچوں کی روٹی ان بھکاریوں کو دیکر مطمئن ہیں تو بیشک اگلے سو سال اور ذلت میں گزارئیے لیکن اگر آپ چند سالوں میں ہی مضبوط معاشی استحکام اور اپنے بچوں کیلئے پرسکون زندگی دینا چاہتے ہیں تو آج ہی سے تمام بھکاریوں کو خداحافظ کہہ دیجیے. پانچ سال کے بعد آپ اپنے فیصلے پر انشاءللہ نادم نہیں ہونگے اور اپنے بچوں کو پھلتا پھولتا دیکھ کر خوشی محسوس کرینگے۔ پاکستان کے تمام فقہئی مفتیان کرام ان بھکاری مافیا کے خلاف فتویٰ دے چکے ہیں کہ انہیں خیرات دینا گناہ کبیرہ ھے کیونکہ یہ مافیاء سفید پوش مستحقین کا حق کھارھے ھیں۔ بنگلہ دیش نے جس دن بھکاری سسٹم کو خدا حافظ کہا تھا، اسکے صرف چار سال بعد اسکے پاس باون ارب ڈالر کے ذخائر تھے. کیا ہم اچھی بات اور مستند کام کی تقلید نہیں کرسکتے. اب اپنے بچوں کے لئے فیصلہ آپکے ہاتھ میں ہے. یاد رھے کہ یہ سسٹم مکمل پولیس مافیاء اور کرپٹ سیاستدانوں، کرپٹ نوکر شاہی طبقہ اور کرپٹ اشرفیہ کی پشت پناہی پر سرگرم عمل ھیں۔ ان کرپٹ مافیاء کے سانپ کو آپ ہی دودھ پلا رھے ھیں اسی لئے معاشرے میں بداخلاقیاں اور بدکاریاں انہی کے سبب عروج پا رہی ہیں، اپنی نسل اور ملک و قوم کی خوشحالی کی خاطر اس مافیا کی مالی اعانت یعنی بھیک امداد عطیات دینا بند کردیں البتہ گلیوں محلوں کی بزرگ کمیٹیاں تشکیل دیں اور مستحق سفید پوش لوگوں کے روزگار تعلیم صحت اور شادی بیاہ میں مدد کریں انشاءاللہ بہت جلد بہترین نتائج سے مستفید ھونگے رہی ان این جی اوز اور فلاحی اداروں کی ان کے پاس کوئی مناسب معقول نظام نہیں جس سے وہ سفید پوش مستحق کی مدد کرسکیں، حقیقت تو یہ ھے کہ حکومتی ادارے زکواة و عشر کمیٹیاں اور مذہبی امور کے ماتحت چلنے والے اداروں، اور نجی این جی اوز، فلاحی اداروں کی صاف و شفاف انداز میں سالانہ آڈیٹر جنرل پاکستان سے آڈٹ کراکر رپورٹ عوام میں جاری کی جائیں تاکہ عوام جان سکیں کہ وہ اپنا انتہائی محنت و مشقت اور حلال کا پیسہ صحیح ہاتھوں میں دے بھی رھے ھیں کہ نہیں دوسرا یہ کہ حکومت اور ریاست آئینی قانونی مذہبی و اخلاقی فریضہ کے مطابق بھکاری مافیاء کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے مستقل دائمی بنیادوں پر گرینڈ آپریشن کرے۔ یاد رھے کہ درمیانے لوگوں کو تمام حقوق دیدیئے گئے ھیں انہیں شناختی کارڈ، روزگار میں کوٹہ اور دیگر انسانی حقوق کی مراعات بہم پہنچادی گئی ھیں مگر یہ اسکا فائدہ مثبت کے بجائے منفی انداز میں قائم کئے ھوئے ھیں جنہیں حکومت اور ریاستی اداروں نے ہی درست کرنا ھے۔ آخر میں عوام سے مطالبہ اور درخواست کرتا ھوں کہ اپنا حلال کی دولت حرام میں شامل نہ کریں کسی بھی مافیاء کے ہتھے چڑھنے سے بچیں کل بروز قیامت اپنی غفلت اور لاپروائی کے سبب مستحق کو محروم رکھنے پر اس بابت آپ سے سوال ضرور پوچھا جائیگا۔۔۔۔!!

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں