680

جِس کے پلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بُوٹ، ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تُھو

جِس کے پلّو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بُوٹ،
ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تُھو

جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کا ٹتی ہو،
ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تُھو

شہر آشوب زدہ، اُس پہ قصیدہ گوئی،
گنبدِ دہر کے اس پالتو فنکار پہ تُھو

سب کے بچوں کو جہاں سے نہ میسّر ہو خوشی،
ایسے اشیائے جہاں سے بھرے بازار پہ تُھو

روزِ اوّل سے جو غیروں کا وفادار رہا،
شہرِ بد بخت کے اُس دوغلےکردار پہ تُھو

زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور،
عادلِ شہر ترے عدل کے معیار پہ تُھو

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں