791

🌹 *ارتغل غازی* کی زندگی🌹 🌹کامختصر خاکہ🌹 کون جانتا تھا کہ 1198ء میں ایک چھوٹے سےترک قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ جبرواستبداد’غلامی و لاچاری’مقہوری و بے بسی میں مبتلا انسانوں کیلئے صورِ اسرافیل علیہ السلام کا کام کردے گا. غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں میں اتنی قوت

🌹 *ارتغل غازی* کی زندگی🌹
🌹کامختصر خاکہ🌹

کون جانتا تھا کہ 1198ء میں ایک چھوٹے سےترک قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ جبرواستبداد’غلامی و لاچاری’مقہوری و بے بسی میں مبتلا انسانوں کیلئے صورِ اسرافیل علیہ السلام کا کام کردے گا. غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے انسانوں میں اتنی قوت آ جائے گی کہ وہ تِنکوں کےسہارے اپنے گھونسلے تعمیر کرنےلگیں گے. ظلم وجبر کی کالی رات نویدِ سحر لے کر دن کےاجالے میں تبدیل ہوجائے گی اور چارسو عدل و انصاف کے پھریرے لہرانے لگیں گے.

ریت کے ذروں کی طرح بکھری ہوئی امت یکجان ہوکر اپنی وحدت اور مرکزیت کی طرف لوٹ آئے گی اورایک ایسی مسلم ریاست کی بنیادڈالے گی جس کے سایہ رحمت میں چھ سوسال تک مسلمان آدھی دنیا پر حکومت کریں گےاورعالمِ کفر کے قلب پر اسلام اور مسلمانوں کی عظمت کی دھاک کچھ اس انداز میں بیٹھ جائے گی کہ وہ صدیوں تک اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغاوت کرنے کی جرأت نہ کرسکیں گے. مسلم دنیا کیلئے روشنیوں کی امید بن کر طلوع ہونے والے اس آفتاب کا نام تاریخ میں
“ارتغل غازی ” کے نام سے محفوظ ہے.

عالمِ اسلام کے اس شیردل مجاہداور عظیم غازی نے اپنی زندگی کے نوے سالوں میں سے تقریباً ستر سے پچھتر سال اعلاءِ کلمۃ اللہ اورچارسو عدل انصاف کا بول بالا کرنے کیلئے عَلَمِ جہاد بلند کئے رکھا اور اس راستے میں پیش آنے والی تمام رکاوٹوں اور باطل قوتوں کو اپنی تلوار کی نوک پہ رکھتے ہوئے نشانِ عبرت بنادیا. ارتغل غازی نے ایک طرف اپنی تلوارکی طاقت اور خداداد ذہنی صلاحیت کواستعمال کرتےہوئےعہد شکن صلیبیوں اور درندہ صفت منگولوں کو ہرمیدان میں ناکوں چنے چبوائےتودوسری طرف سلجوق سلطنت کے اندر موجود بڑے بڑے غداروں کاپردہ چاک کرکےانہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکااور اسلام اوراسلامی ریاست کے ساتھ وفاداری کاعہد تادمِ زیست نبھاتےرہے.

ترکوں کے جدِّامجد اوغوز خان کے بارہ بیٹے تھے جن سےان کے بارہ قبیلے ہوئے.
ماوراء النہر کاعلاقہ جسے آج ہم ترکستان کہتے ہیں اور جو مشرق میں منگولیا اور شمالی چین کی پہاڑیوں سے مغرب میں بحرِ خزز ( بحرِ قزوین) اور شمال میں سیبریاکے میدانی علاقوں سے اور جنوب میں برصغیراور فارس تک پھیلا ہواتھا اوغوز خاندان کا وطن تھا اس علاقے میں اوغوز خاندان کے بڑے بڑے قبائل آباد تھے. جوترک یااتراک کہلاتےتھے.

ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں ان قبائل نے چنگیزی لشکر کی ہولناکیوں سے بچنے کیلئے ایشائے کوچک کی راہ لی اور سلجوق سلطنت میں جاملے.اس وقت سلجوق سلطنت کے سلطان, سلطان علاؤ الدین تھے.
ان ہی ترک قبائل میں جو چنگیز خان کے حملے کے بعد اپناوطن چھوڑ کر مارے مارے پھررہے تھے ارتغل غازی کاقبیلہ بھی تھا جس کاسردار ارتغل غازی کا باپ سلیمان شاہ تھا اور قبیلے کانام قائی قبیلہ تھا.سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جن کے نام صارم, گلدارو,ارتغل اور ذوالجان تھے سلیمان شاہ کے تمام بیٹے بہت بہادر اور اعلٰی درجے کے جنگجو تھے مگر ارتغل غازی ان سب میں ایک منفرد حیثیت کے مالک تھے. ارتغل غازی نے چھوٹی عمر میں ہی شمشیرزنی, تیراندازی, نیزہ بازی اور گھڑ سواری جیسے جنگی فنون میں مہارتِ تامہ حاصل کرلی.جس کے نتیجے میں انہوں نے کئی معرکوں میں دشمن کو حیرت انگیزطورپر شکست دی.سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغل غازی قائی قبیلے کے سردار منتخب ہوئے.

بعض تاریخی روایات کے مطابق قائی قبیلے کاپیشہ گلہ بانی تھا اوروہ اسی سے اپنی گزربسر کرتے تھے قحط اور خشک سالیوں سے تنگ آکر یہ سرسبز علاقوں اورزرخیززمینوں کی طرف ہجرت کرنے پہ مجبور ہوئے. تاریخی حقیقت جوبھی ہو مگر کسے معلوم تھا کہ دنیا کی نظر میں جو چرواہےہیں اورجن کےپاس رہنےکواپنی سرزمین نہیں وہ ایک ایسی عظیم الشان اسلامی سلطنت کی داغ بیل ڈالنے والے ہیں جس کی سرحدیں تین براعظموں کوپھلانگ جائیں گی اور جوصدیوں تک اسلام کا پرچم سربلند رکھےگی.

چنانچہ چنگیز خان کے لشکر کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے یا قحط اور خشک سالیوں سے چھٹکارہ پانے کیلئے قائی قبیلہ سب سے پہلے ہجرت کرکےاہلت آیا پھر اہلت سے حلب میں آگئے. حلب میں اس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے غیاث الدین العزیز کی حکومت تھی اور حلب کے وزیراعظم غیاث الدین العزیز کے ماموں شہاب الدین طغرل تھے.

حلب اس وقت صلیبیوں کی سازشوں میں گِھرا ہواتھااورصلیبیوں نے یہاں مسلمانوں کےروپ میں ہرجگہ اپنے پنجے مضبوطی سے گاڑرکھے تھے اورکلیدی عہدوں پرفائز تھےیہاں تک کہ العزیز کی فوج کاسالار بھی ایک صلیبی شخص (ظاہراًمسلمان) تھا جس پر العزیز بہت زیادہ اعتماد کرتا تھا اور یہ العزیزسے اپنی مرضی کے فیصلے کرواتاتھایعنی حلب میں العزیز کی حیثیت صرف ایک کٹھ پتلی کی تھی اور العزیز کواس کااحساس تک نہیں تھا حلب کے قریب صلیبیوں کا ایک خفیہ قلعہ تھا اور اس شہرمیں ہونے والی تمام سازشوں کے تانےبانے اسی قلعے سے جا ملتے تھے.اسی قلعے میں موجود مسیحی رہنماالقدس کو فتح کرنے کے منصوبے تیار کررہے تھے اور اس مقصد کی تکمیل کیلئے انہوں ایوبیوں اور سلجوقیوں کے درمیان اختلافات کی آگ بھڑکائی یہاں تک کہ ایوبیوں اور سلجوقیوں کےدرمیان ایک خونریز جنگ چھڑنے والی تھی جس میں دونوں طرف مسلمانوں کاخون بہتا اور سب سےزیادہ فائدہ صلیبیوں کوہوتااوراس کے علاوہ حلب کے امیر العزیز کے سائے میں چھپے ان صلیبی ناگوں نے سلجوق سلطنت میں آباد مختلف ترک قبائل کو سلجوق سلطنت کے سلطان علاؤ الدین کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرنے کی حددرجہ کوشش کی مگر ارتغل غازی نےاپنےزورِبازواوراپنی خدادادصلاحیت کواستعمال کرتےہوئے بروقت کارروائی کی اوریہاں بچھائے گئے صلیبیوں کےتمام جال کاٹ ڈالے اور ایک ایک صلیبی کو العزیز کے سامنے بےنقاب کرکےان کے تمام منصوبوں کوناکام بنادیااور پھر اپنے سپاہی لے کر ان کے قلعےپرچڑھ دوڑااور قلعے کی اینٹ سے اینٹ بجادی یوں صلیبیوں کی تمام سازشیں دم توڑ گئیں اور ارتغل غازی امت مسلمہ کو ایک خونریزجنگ اوراختلافات کی بھینٹ چڑھ جانے سے بچانے میں کامیاب ہو گئےیوں ارتغل غازی نے ایوبیوں اور سلجوقیوں کےدرمیان دوستی کرادی.

اسی دوران ارتغل غازی نے سلطان علاؤ الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کرلی جس سے ان کے تین بیٹے گوہر’شہریار اور عثمان ہوئے اسی عثمان کے نام سے خلافتِ عثمانیہ کا نام پڑا اور خلافتِ عثمانیہ کا پہلا خلیفہ بھی یہی عثمان غازی بنا.

جب ارتغل غازی نے حلب میں صلیبی کارستانیوں کو ناکام بنادیا تو ان کی جرأت’ بہادری’ جانبازی اوربےخوفی کی شہرت اناطولیہ سے قونیہ تک بلکہ سلجوق سلطنت کی سرحدوں کوپھلانگتے ہوئے منگول سلطنت کے شہنشاہ اوگتائی خان کے مسکن تک جاپہنچی (اوگتائی خان چنگیز خان کابیٹا اور ہلاکو خان کاباپ تھا)اور منگولوں کو اس بےباک بہادر کی گھن گرج سے خطرہ محسوس ہوا تو اوگتائی خان نے ان کو کچلنے کیلئے اپنے سب سے قریبی سالار نویان کاانتخاب کیا جو ایک درندہ صفت اور سفاک انسان تھااورجو انسانوں کے خون سےاپنی پیاس بجھاتااور ان کی املاک کو لوٹ کر یا تباہ کرکے اپنی بھوک مٹاتا.
نویان اپنی پوری قوت اور غرور کے ساتھ ارتغل غازی کو مات دینے کیلئے میدان میں اترامگر ارتغل غازی نے اپنی بہترین عسکری چالوں اور جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے عظیم منگول کمانڈر نویان کو بے بس کردیااور اسے عبرت ناک شکست دی.

اوگتائی خان کے رائٹ ہینڈ نویان کو شکست دینے کے بعد ارتغل غازی اپنے قبیلے کے ساتھ ارزروم سے ہجرت کرکے اناطولیہ میں بازنطینی سرحد پر آگئے جہاں سرسبز چراگاہوں کےساتھ زرخیز زمین اپنی مثال آپ تھی مگر یہاں بازنطینی مقتدر قوتوں نے عوام الناس کا جینا دوبھر کررکھا تھا لوٹ مار کابازار گرم تھا لوگوں کی معاشی حالت بدتر تھی اور حکومت کی طرف سے ناجائز ٹیکسز نے عوام الناس کی کمر توڑ دی تھی مسلمان تو مسلمان خود بازنطینی لوگ اپنی حکومت سے بیزار تھے الغرض لوگ غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے مگر کوئی ان کی رہنمائی کرنے والا نہیں تھا ان حالات میں جب ارتغل غازی اپنے قبیلے کے ساتھ ہجرت کرکے یہاں آئے تو انہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور مسلم و غیر مسلم دونوں کیلئے بلاتفریق عدل و انصاف کے نظام کے قیام کاعَلَم بلند کیا تو لوگوں میں امید کی کرن پھوٹی اور وہ ارتغل غازی کے ساتھ شامل ہوتے گئے . اس مقصد کیلئے ارتغل غازی نے سب سے پہلے بازنطینی سرحد پر موجود ہانلی بازار پر حملہ کرکے اسے فتح کرلیا جو صلیبی (ٹمپلرز) کے قبضے میں تھا اوراس علاقےکی تجارت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھاہانلی بازار فتح کرکے ارتغل غازی نے یہاں پر لاگو ناجائز ٹیکسز ختم کردیئے اور مسلم و غیر مسلم دونوں کیلئے بلاتفریق تجارت کی سہولیات فراہم کیں جسکی وجہ سے ارتغل غازی کی مقبولیت ارد گرد کے قبائل اور بازنطینی تاجروں میں روز بروز بڑھتی گئی جو بازنطینی مقتدر قوتوں اور سلجوق سلطنت کے اندر موجود بڑے بڑے غداروں کو لمحہ بھر کیلئے بھی برداشت نہ تھی اس لئے ہرآئے روز وہ ارتغل غازی کے خلاف سازشوں کے جال بچھاتے مگر ہردفعہ انہیں منہ کی کھانی پڑتی.
یہاں بازنطینی صلیبیوں کا ایک قلعہ تھا جس کانام قراجہ حصار تھا جہاں سے بازنطینی ارتغل غازی کو مات دینے کیلئے آئےروز سازشیں کرتے رہتے اس لئے ارتغل غازی اور قراجہ حصار کے صلیبیوں کے درمیان کئی معرکے ہوئے جن میں صلیبیوں کوبھاری نقصان اٹھاناپڑا.مگر قراجہ حصار قلعے میں موجود بازنطینی صلیبی پھر بھی اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہ آئے تو ارتغل غازی نے اپنے سپاہیوں کےساتھ قلعے پرحملہ کردیانہایت خطرناک جنگ ہوئی مگر آخر کار فتح کا سہرا اسلام کے متوالوں کے سر پرسجا اور قلعے کے درودیوار اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھےاور جآء الحق وزھق الباطل کے نغمے فضا میں بلند ہوئے اور بازنطینی صلیبیوں کا غرور خاک میں مل گیا..

جب سلطان علاؤ الدین کو قراجہ حصار قلعے کی فتح کی خبر ملی توان کی نظر میں ارتغل غازی کامقام ومرتبہ اور بڑھ گیااور سلطان علاؤ الدین نے انہیں اس علاقے کا سردارِ اعلی بنا دیا یوں ارتغل غازی کی طاقت اور مقبولیت میں اضافہ ہوتاگیااوروہ اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلےگئے.

جب ارتغل غازی ایک طرف سلجوق سلطنت کیلئے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے تودوسری طرف سلجوق سلطنت کے اندر موجود غدارِاعظم سعدتین کوپیک ( یہ سلجوق سلطنت کاسب سے بڑا وزیرتھا) نے اپنی سلجوق سلطنت کاسلطان بننے کی ناجائز خواہش کو پورا کرنے کیلئے غداریوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سلطان علاؤ الدین کو زہر دے دیاجسکی وجہ سے سلطان علاؤ الدین شہید ہوگئےاور ان کے بعد ان کابیٹا غیاث الدین سلجوق سلطنت کاسلطان بن گیا. چونکہ سلطان غیاث الدین کم سن تھے اورامورِ سلطنت کو چلانے میں ناتجربہ کار تھے اس لئے امیر سعدتین کوپیک ان پہ حاوی تھا قریب تھا کہ امیرسعدتین کوپیک سلطان غیاث الدین کوبھی قتل کرکے خود سلطان بن جاتا مگر سلطان غیاث الدین ارتغل غازی اور کچھ دوسرے وفاداروں کے ساتھ مل کر امیر سعدتین کوپیک کے خلاف صف آرا ہوئے. یہاں ایک بار پھر ارتغل غازی نے اپنی سپہ گری کے بہترین جوہر دکھائے اور اپنی بہترین عسکری چالوں اور جنگی حکمتِ عملی کے ذریعے امیر سعدتین کوپیک کو شکست دی اور اسے قتل کر کے سلجوق سلطنت کو ایک بہت بڑے غدار سے نجات دلائی اور ایک بارپھرریاست کے ساتھ وفاداری کا عہد نبھایا..

ایک تاریخی روایت کےمطابق جب ارتغل غازی ہجرت کر کے اناطولیہ پہنچے تو انہوں نے دو لشکروں کو آپس میں برسرِ پیکار دیکھاجن میں سے ایک تعداد میں زیادہ اور دوسرا کم تھا وہ کسی فریق سے واقف نہ توتھےمگر اپنی فطری ہمدردانہ طبیعت کے باعث ارتغل غازی نے چھوٹے لشکر کا ساتھ دیا اور 444 شہسواروں کے ساتھ میدانِ جنگ میں کود پڑے اور شکست کے قریب پہنچنے والا لشکر اس اچانک امداد سے جنگ کا پانسا پلٹنے میں کامیاب ہو گیا۔ ارتغل غازی نے جس فوج کی مدد کی وہ دراصل سلجوق سلطنت کےسلطان علاؤالدین کا لشکر تھا جو مسیحیوں سے برسرِپیکار تھا اور اس فتح کے لیے ارتغل غازی کی خدمات کے پیش نظرسلطان علاؤالدین نے انہیں سوغت شہر جاگیر کے طور پر عطاکیا۔چونکہ یہ شہردریائے سقاریہ کے بائیں جانب بازنطینی سرحد کےقریب واقع تھا اس لئے اکثر اوقات ارتغل غازی کی بازنطینی قلعہ داروں سے جنگ کی نوبت آتی رہتی تھی یہاں ارتغل غازی نے تھوڑےہی عرصے میں اپنی بہادری کاسکہ بٹھادیا.
ارتغل غازی نہ صرف عظیم سپہ سالار اور بہترین جنگجو تھے بلکہ وہ بہت ہی اعلٰی اوصاف کے حامل انسان تھےدن کے مجاہد اوررات کے عابد کے ساتھ ساتھ انتہائی شریف النفس ‘سادگی پسند’مہمان نواز’فیاض اور رحمدل انسان بھی تھےجسکی وجہ سے ایشائے کوچک میں پہلےسے مکین ترک قبائل ارتغل غازی کے ساتھ شامل ہوتے گئے اور وہ اپنے مشن کی طرف آگےبڑھتے رہےاور پورے شہر میں عدل و انصاف کا بول بالا کردیا..
اسی شہرکو ہی ارتغل غازی نے تادمِ آخر اپنا مستقر بنائےرکھااور 1288ء میں اسی شہر میں ہی عالمِ اسلام کے یہ عظیم مجاہد خالقِ حقیقی سے جاملےاور سوغت کے قریب دفن ہوئے.
رحمۃ اللہ تعالی علیہ

ارتغل غازی کی مسلسل مجاہدانہ کوششوں اور خلوصِ نیت نےہی ان کے بیٹے عثمان غازی کیلئے راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں انہوں 27 جولائی 1299ء میں سلجوق سلطنت سے خود مختاری کااعلان کرتے ہوئے ایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھی جو عثمان غازی کے نام کی نسبت سےہی سلطنتِ عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی اور 1299ء سے 1924ء تک اسلام کا پرچم سربلند رکھا..

آخر میں’ میں اپنی وہ نظم یہاں تحریر کرتا ہوں جس میں ارتغل غازی کوخراجِ عقیدت پیش کیاگیا ہے..

🌹ارتغل غازی 🌹

جو عثمانی خلافت کا ہے بانی ارتغل غازی
تو امت پر ہے رب کی مہربانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
توشیروں کی طرح لڑتارہا باطل کی فوجوں سے
سداکی تو نے حق کی ترجمانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
چٹانوں سے کہیں مضبوط تیراعزم دیکھا ہے
توکرگزرا ہے جس کی تو نے ٹھانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
صلیبی سازشیں ہوں یا ہو منگولوں کی ہٹ دھرمی
مٹادی تو نے ان سب کی کہانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
تراشیوہ مصائب جھیل کر ثابت قدم رہنا
تہہ خنجر عدو کی اک نہ مانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
ہمیشہ اتحادِ امتِ مسلم کاداعی تھا
جہاں کرتا ہے تیری مدح خوانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
عدو کی چالبازی کو تُو پل میں بھانپ لیتا تھا
یہی تھا تیرا رازِ کامرانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
تواپنوں اور غیروں میں سداانصاف کرتاتھا
مثالی تھی تمہاری حکمرانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
ترےروشان بابر نورگل سچے مجاہد ہیں
جنہوں نےکی مشن کی پاسبانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
جہادِ فی سبیل اللہ کابچپن سے تھادیوانہ
کھپادی اس میں پھر اپنی جوانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳
وہ دشمن کی صفوں کو روندتا تھا اس طرح رفرفَ
کہ جیسے ہو اک آفت آسمانی ارتغل غازی
🌳🌳🌳🌳🌳🌳🌳

🌹✍امتیاز احمد رفرف 🌹
*♥ رانا فیصل کمالی♥*

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں