14

جھنگ ( بیورورپورٹ) جھنگ کے لیے بری خبر جھنگ میں پہلے اپنی جگہ کی بجائے ایک خواتین یونیورسٹی کو تباہ کر کے اس کی۔جگہ پر بننے والی یونیورسٹی آف جھنگ کے کم معیار کی صورتحال سامنے آگئی یونیورسٹی آف جھنگ میں جعلی ڈگری اور دیگر تمام سیاسی و میرٹ سے ہٹ پر ہونے کا انکشاف دو ایم پی ایز اور سینڈیکیٹ کمیٹی کے ارکان چیخ پڑے یونیورسٹی آف جھنگ بحائے ترقی کے تباہی کی طرف گامزن واائس چانسلر بھی وزیر اعلی پنجاب کی طرح خاموش لیکن سب غیر قانونی کام ان کے سامنے ہو ریے ہیں

جھنگ ( بیورورپورٹ) جھنگ کے لیے بری خبر جھنگ میں پہلے اپنی جگہ کی بجائے ایک خواتین یونیورسٹی کو تباہ کر کے اس کی۔جگہ پر بننے والی یونیورسٹی آف جھنگ کے کم معیار کی صورتحال سامنے آگئی یونیورسٹی آف جھنگ میں جعلی ڈگری اور دیگر تمام سیاسی و میرٹ سے ہٹ پر ہونے کا انکشاف دو ایم پی ایز اور سینڈیکیٹ کمیٹی کے ارکان چیخ پڑے یونیورسٹی آف جھنگ بحائے ترقی کے تباہی کی طرف گامزن واائس چانسلر بھی وزیر اعلی پنجاب کی طرح خاموش لیکن سب غیر قانونی کام ان کے سامنے ہو ریے ہیں وائس چانسلر کا کار خاص عاشق ڈوگر جو کئی سال کنٹرولر ریا جس کی ڈگری جعلی تھی جب اس کی نشاندہی کی گئی بجائے وائس چانسلر اس کے خلاف فوجداری کاروائی کرتا کاروائی کی بجائے خاموشی سے تنخواہ اور دیگر مراعات کی مد لینے والے کو فرار کا راستہ دے دیا یونیورسٹی میں جتنی بھی تقرریاں ہوئی میرٹ سے ہٹ کر ہوئی رحسٹرار آفس میں تین کمپیوٹر آپریٹر بھرتی ہوئے جی کی مطلوبہ تعلیمی معیار پورا نہ تھا لیکن سفارشی بھرتی کرکے اب جھنگ سے ایک کمپیوٹر کالج سے کمیپوٹر کی ڈپلومہ بنوا کر ساتھ لگانے کی تیاری کی جارہی ہے نہ جانے کونسی جادو کی چھڑی ہے کہ ایک ایک خاندان کے کئی افراد یونیورسٹی میں ملازم ہیں خرم نامی کو ہی دیکھ لے جس کو کمیٹی میں بٹھا کر سفارشی بھرتی کی گئی۔اس کے رشتہ دار بھی بھرتی ہیں سرور نامی اسسٹنٹ انجینر کو اسٹیٹ آفیسر لگا دیا گیا حالانکہ اسٹیٹ آفییسر باقاعدہ موجود ہے مگر ایک دوسری یونیورسٹی سے ڈیپوٹیشن پر آیا اسسٹنٹ انجینر کو اسٹیٹ آفیسر ہونے کے باوجود لگانا سمجھ سے بالاتر اسٹیٹ آفیسر نے گوجرہ روڈ پر یونیورسٹی کی 300 ایکڑ زمین کو کاشت من پسند لوگوں کو دیکر کاشت کروایا اور اپنا حصہ وصول کیا حالانکہ زمین کو ٹھیکہ پر دیا جاتا تو کروڑوں کی انکم ہوتی لیکن۔اسٹیٹ آفیسر جو ڈیپوٹیشن پر آیا ہے خوب لوٹ مار کر رہا ہے جبکہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یونیورسٹی کا۔معیار صرف اور صرف اس لیے گر گیا کہ تمام۔تقرریاں میرٹ سے ہٹ کر اقرباپروری کی گئی اور یونیورسٹی کے آفیسرز کی من پسند اور سیاسی من ہسند کی گئی جس کی وجہ سے معیار گر گیا لوگ یونیورسٹی میں۔داخلہ لینے کے لیے ترستے ہیں۔یہاں لیتا کوئی نہ ہے گورنمنٹ کالج جھنگ کا میرٹ یونیورسٹی سے زیادہ ہے جھنگ کے ایم پی ایز نے یونیورسٹی آف جھنگ کی کرپشن اور میرٹ سے ہٹ کر ہونے والی تقرریاں اور یونیورسٹی کے معیار گرنے جیسی تکلیف دہ صورتحال پر وزیر اعلی پنجاب کو آگاہ کیا جبکہ معروف سیاسی و سماجی شخصیت کونسلر ظفر گوگا نے بھی گورنر پنجاب کو بھی درخواست ارسال کی تھی کہ سرور نامی اسسٹنٹ انجینئر نے یونیورسٹی کا رقبہ کرپشن کر کے مقامی لوگوں کو بغیر کسی آکشن کے کاشت کرنے کیلئے دیا تھا اس پر بھی کوئی انکوائری نہیں ھوی دوسری طرف جھنگ کے شہریوں نے بھی گورنر پنجاب سے بھی مطالبہ کیا تمام تقرریوں کی شفاف انکوائری کروائی جائے اور جعلی ڈگری والے کنٹرولر عاشق ڈوگر پر فوجداری مقدمہ اور ریکوری کروائی جائے اس سلسلہ میں وائس چانسلر ڈاکٹر شاھد منیر نے موقف میں بتایا کہ جھنگ یونیورسٹی ٹاپ کی یونیورسٹی میں نام آرہا ہے میں نے میرٹ پر تقرریاں کی ہیں یہ پراپیگنڈہ صرف میرٹ پر کام کرنے کی وجہ سے کیا جا رہا ہے یہ لوگ یونیورسٹی کے دوست نہیں دشمن ہیں سب ریکارڈ میرٹ لسٹ حاضر ہے

یہ خبر شیئر کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں