قسمت کے کھیل نرالے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت عرصہ پہلے یہ کہانی کہیں پڑھی تھی اور دل پر نقش ہو گئی۔ ہنری نامی ایک شخص کا کتا ایک خرگوش کے پیچھے بھاگتے ہوئے جنگل میں گم ہو گیا۔ اس کے کتے کا نام ٹامی تھا۔ ہنری کو اس سے شدید قسم کا پیار تھا۔ وہ کئی دن جنگل میں بھٹکتا پھرا مگر ٹامی ایسا غائب ہوا کہ کہیں بھی اس کا سراغ نہ مل سکا۔

فرانس کی وزیر انصاف Rachida Dati پیٹ میں موجود بچے کے نسب کے کیس میں عدالت کے سامنے پیش ہوٸی۔۔ وزیر انصاف کے پیٹ میں اس بچے کا باپ ہونے کے آٹھ دعویدار ہیں، کیونکہ آٹھ مَردوں سے اسکے جنسی تعلقات تھے اب فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کہ بچہ کس کا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وزیر کو عالمِ اسلام میں عورت کے حقوق کی بڑی فکر ہوتی ہے۔

سومنات کا مندر* سومنات کا مندر اتنا بڑا تھا کہ ہندوستان کے سب راجے اس کے لیے جاگیریں وقف کرتے، اپنی بیٹیوں کو خدمت کے لیے وقف کرتے جوکہ ساری عمر کنواری رہتیں اور انہیں دیوداسیاں کہا جاتا، ہر وقت 2000 برہمن پوجا پاٹ کرنے کے لیے حاضر ہوتے اور 500 گانے بجانے خوبصورت عورتیں اور 300 قوال ملازم تھے،

فرائیڈے 13 کی تواہم پرستی : ۔ توہم پرستانہ عقیدے ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے انداز سے سرایت کر چکے ہیں کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ہم کالی بلی کے راستہ کاٹنے یا دودھ کے گرنے جیسے عوامل کو بدشگونی سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان توہم پرستانہ عقائد کی جھلک مغربی معاشرے میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے، جنہیں انتہائی ترقی یافتہ مانا جاتا ہے-

1937 میں انگلینڈ میں – چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا میچ 60 ویں منٹ میں شدید دھند کی وجہ سے رک گیا۔ لیکن چارلٹن کے گول کیپر سیمے بارٹرم کھیل کو روکنے کے 15 منٹ بعد بھی گول کے اندر موجود تھے- کیونکہ اس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہجوم ‏کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی۔ وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کرکے گول پوسٹ پر کھڑا رہا-